سینئر صحافی سعود ساحر کی صحافتی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں،ذمہ دارانہ صحافت ناگزیر ہے، وفاقی وزیر
اسلام آباد(سٹی رپورٹر) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ سینئر صحافی سید سعود ساحر کی صحافت کے شعبے میں گرانقدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان کی خدمات کے اعتراف اور نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے بہترین رپورٹنگ کرنے والے نوجوان صحافیوں کو ’’سعود ساحر ایوارڈ‘‘ دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ ملک و قوم کی بہتری اور جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے ضروری ہے کہ صحافی فیک نیوز سے اجتناب کریں اور حقائق پر مبنی ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) دستور کے زیر اہتمام سینئر صحافی سید سعود ساحر کی یاد میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تعزیتی ریفرنس میں وفاقی وزیر احسن اقبال، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈاکٹر جمال ناصر، نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سینئر صحافی حاجی نواز رضا، رانا کوثر علی، حافظ طاہر خلیل، فاروق عادل، ڈاکٹر عبدالودود قریشی، سجاد اظہر، خالد عظیم، رائے ریاض حسین اور سعود ساحر کے صاحبزادے اور پوتیوں سمیت سینئر صحافیوں، صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے سید سعود ساحر کی صحافتی جدوجہد، پیشہ ورانہ دیانت داری، اصول پسندی اور قومی و صحافتی معاملات پر ان کے بے باک مؤقف کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو نئی نسل کے صحافیوں کیلئے مشعل راہ قرار دیا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ سید سعود ساحر ایک ایسے صحافی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی صحافت کے اعلیٰ اصولوں، سچائی، دیانت داری اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مقدم رکھتے ہوئے گزاری۔ ان کی صحافتی خدمات محض خبروں کی اشاعت تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے قومی معاملات، جمہوریت، آزادی اظہار اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ایسے صحافی کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ ان کے مشن اور اصولوں کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث معلومات کی ترسیل انتہائی تیز ہو چکی ہے، تاہم اس کے ساتھ فیک نیوز اور غیر مصدقہ اطلاعات کا چیلنج بھی بڑھ گیا ہے۔ صحافت کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ خبر کی تصدیق، حقائق کی درستگی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم اختلاف کو جھوٹی خبروں، گمراہ کن معلومات اور کردار کشی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ نوجوان صحافیوں میں مثبت مقابلے کا رجحان پیدا کرنے اور معیاری صحافت کی حوصلہ افزائی کیلئے ’’سعود ساحر ایوارڈ‘‘ کا اجراء ایک اہم اقدام ہوگا۔ اس ایوارڈ کے ذریعے بہترین رپورٹنگ کرنے والے نوجوان صحافیوں کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے گا اور انہیں تحقیقاتی، ذمہ دارانہ اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کی جانب راغب کیا جا سکے گا۔تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئےجماعت اسلامی کی سینئر رہنماء لیاقت بلوچ نے کہا کہ سید سعود ساحر کی شخصیت صحافتی وقار، اصول پسندی، بے باکی اور پیشہ ورانہ دیانت داری کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے اپنے طویل صحافتی کیریئر میں مشکل حالات کے باوجود حقائق پر مبنی صحافت کا دامن نہیں چھوڑا اور ہمیشہ قومی و عوامی مفادات کو ترجیح دی۔ ان کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری اور عوام کی آواز بننے کا ذریعہ سمجھا۔ دیگر مقررین نے کہا کہ سعود ساحر جیسے سینئر صحافیوں کی خدمات اور تجربات نئی نسل کیلئے قیمتی اثاثہ ہیں۔ آج صحافت کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں سینئر صحافیوں کی رہنمائی، صحافتی اداروں کی مضبوطی اور صحافتی آزادی کا تحفظ پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ صحافت میں تحقیق، غیر جانبداری، سچائی اور عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت دی جائے تاکہ میڈیا معاشرے میں مثبت تبدیلی اور جمہوری شعور کے فروغ میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔مقررین نے سید سعود ساحر کی صحافتی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نام صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ احترام سے لیا جاتا رہے گا۔ ان کی جدوجہد، اصولوں سے وابستگی اور صحافتی خدمات کو زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ان کے نام سے ایوارڈز، تربیتی سرگرمیوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے نوجوان صحافیوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جائے۔تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر سید سعود ساحر کی مغفرت، بلندی درجات اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی صحافتی روایات، اصول پسندی اور حق گوئی کے مشن کو آگے بڑھایا جائے گا۔







