پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی زد میں آ گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے دعوے کے مطابق دو آئل ٹینکر، جن میں سے ایک آبنائے ہرمز اور دوسرا اس کے مشرقی علاقے میں موجود تھا، بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی زد میں آ گئے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بیان ایرانی میڈیا میں آنے والی ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ صوبہ ہرمزگان کے مختلف علاقوں میں دھماکوں سے ملتی جلتی آوازیں سنی گئی ہیں۔
آئی آر جی سی نیوی کے مطابق دونوں ٹینکروں نے اپنے نیویگیشن اور پوزیشننگ سسٹمز بند کر رکھے تھے اور وہ ان بحری راستوں سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔
ایرانی فورس نے خبردار کیا ہے کہ ایسے بحری جہاز جو ایران کے مقرر کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر مجاز علاقوں میں داخل ہوں گے، بارودی سرنگوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
بیان میں جہازوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی ہدایات پر انحصار نہ کریں۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے اطلاع دی تھی کہ قشم، سیرک، جاسک اور بندر عباس میں دھماکوں جیسی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ان آوازوں کی وجہ کیا تھی۔
آئی آر جی سی نیوی نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ آیا ٹینکروں سے متعلق واقعہ اور ہرمزگان میں سنی جانے والی آوازیں ایک ہی واقعہ کا حصہ تھے یا نہیں۔
یاد رہے کہ کچھ دیر قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے بحیرۂ عمان میں ہدا نامی ایک کارگو جہاز کو مبینہ طور پر اپنی ہدایات کی خلاف ورزی پر روک دیا تھا، تاہم فی الحال امریکی کارروائی اور آئی آر جی سی کے اس دعوے کے درمیان کسی تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔







