مظفر آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو توہین عدالت کے الزامات پر اسمبلی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا۔فیصلے کا اعلان بینچ کی جانب سے کیا گیا جسے جسٹس خالد رشید نے عدالت میں پڑھ کر سنایا، وزیراعظم کو عدالت برخاست ہونے تک کی سزا سنائی گئی۔ فیصلے میں سردار تنویر الیاس کو وزیر اعظم کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے، قانون ساز اسمبلی کو نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرنا ہو گا، تاہم سردار تنویر الیاس کو فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ سماعت میں عدالت نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے تین ویڈیو کلپس چلائے جس میں ہفتے کو ان کی تقریر کا کلپ بھی شامل تھا اور پوچھا کہ کیا وہ الزامات کا سامنا کریں گے۔سردر تنویر الیاس نے نفی میں جواب دیا اور عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی، انہوں نے کہا کہ میں خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔تاہم، جسٹس خالد رشید نے سوال اٹھایا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تنویر الیاس مستقبل میں ایسا نہیں کریں گے۔سردار تنویر الیاس کو سپریم کورٹ نے بھی طلب کر رکھا تھا، تاہم وہ اپنے کابینہ ارکان کے ہمراہ سیدھا وزیراعظم ہاس روانہ ہوگئے۔پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے سردار تنویر الیاس کی ناہلی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کا وزیر اعظم ہو یا پاکستان کا، عدالتی فیصلوں کا احترام ضروری ہے، عدالتی نظام کو تباہ کر کے ملک نہیں چل سکتے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر عدالت سے معافی مانگیں، امید ہے انہیں سپریم کورٹ سے ریلیف ملے گا، وزیر اعظم پاکستان اس فیصلے سے سبق حاصل کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر کی اعلی عدالتوں نے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو عوامی جلسوں میں اپنی تقاریر میں اعلی عدلیہ کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس کے حوالے سے وضاحت کے لیے الگ الگ نوٹس بھیجے تھے۔ ان کے پرنسپل سیکریٹری کے ذریعے بھیجے گئے نوٹس میں سردار تنویر الیاس کو آج مظفرآباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں علیحدہ علیحدہ طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔نوٹس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ چند ماہ سے وزیراعظم عوامی جلسوں اور تقاریر میں اعلی عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے اعلی عدالتوں کے ججوں کو دھمکی دیتے ہوئے انتہائی تضحیک آمیز اور ناشائستہ زبان استعمال کی ہے۔ہائی کورٹ کے نوٹس کا متن بھی لگ بھگ ان ہی مشاہدات پر مبنی تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم تنویر الیاس نے براہ راست اعلی عدلیہ کو دھمکی دی ہے، ایک جلسہ عام میں ان کی تقریر کی زبان انتہائی تضحیک آمیز، نامناسب اور ناشائستہ الفاظ پر مشتمل ہے۔نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ سردار تنویر الیاس کا نہ صرف تازہ ترین بیان بلکہ گزشتہ کئی مہینوں کا ٹریک ریکارڈ بھی قابل اعتراض، غیر موزوں اور نامناسب بیانات سے بھرپور ہے۔خیال رہے کہ 8 اپریل کو اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران سردار تنویر الیاس نے بالواسطہ طور پر عدلیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ عدلیہ ان کی حکومت کے امور کو متاثر کر رہی ہے اور حکم امتناع کے ذریعے وزیراعظم کے دائرہ کار میں مداخلت کر رہی ہے۔ان نوٹسز کے حوالے سے اسلام آباد میں کچھ صحافیوں نے سردار تنویر الیاس سے استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے صرف اس بات پر روشنی ڈالی تھی کہ اسٹے آرڈرز عوامی افادیت کے منصوبوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، یہ بات عدالتوں کی توہین کے مترادف نہیں ہے۔







