پاک فلسطین فورم کی اسلام آباد کے طلبہ وطالبات کے اعزاز میں افطار پارٹی

راولپنڈی(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) پاک فلسطین فورم نے اسلام آباد کے طلبہ وطالبات کے اعزاز میں افطار پارٹی دی، پارٹی میں فلسطین کے پاکستان میں سفیر عزت مآب احمد جواد ربیعی بطور مہمان خصوصی کے علاوہ مقتدر شخصیات اور اسلامی یونیورسٹی قائد اعظم یونیورسٹی ۔ ودیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ قیادت نے شرکت کی ۔اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے فلسطینی سفیر نے پاک فلسطین فورم کی جانب سے مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو سراہا اور دعا کی کہ اللہ تعالی فورم کو ان نیک مقاصد میں کامیاب کرے اور اسے دن دگنی رات چگنی ترقی سے ہمکنار کرے ، انہوں نے امید ظاہر کی اس فورم کے توسط سے پاکستانی اور فلسطینی عوام کے باہمی تعلقات مزید مستحکم ومضبوط ہوں گے۔ انہوں نے پاکستانی حکومت ، پاکستان اور پاک فلسطین فورم ، دیگر سیاسی رہنماؤں اور مرکزی چیئرمین پاک فلسطین فورم مولانا فتیح اللہ عثمانی کابطور خاص شکریہ ادا کیا جو فلسطین کےانصاف پسند مسئلہ پر اپنے فلسطینی بھائیوں کے بارے میں اپنے موقف پر سختی سے کاربند ہیں۔ انہوں نے ایک حدیث مبارک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا حدیث میں ہے ” تم مسلمانوں کو دیکھوگے کہ وہ آپس میں رحمت و محبت ،دوستی اور لگاؤ میں ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں کہ جب کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بخار اور بے خوابی میں مبتلا ہو جاتا ہے“ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فلسطین کے تعلقات بھی آپس میں اسی رحمت ،محبت ،دوستی اور لگاؤ کی زندہ مثال ہیں۔
فلسطینی سفیر نے پاکستانی عوام ، طلبہ وطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ کی بے پناہ اور غیر متزلزل مدد ونصرت کی بدولت ہم خود کو دشمن کے مقابلے میں بہت زیادہ مضبوط توانا پاتے ہیں ، ہم سینہ سپر ہیں اور ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب قبلہ اول اور سرزمین فلسطین میں ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوگی جس کا دارالخلافہ القدس ہوگا اور تمام فلسطینی پناہ گزین جو 1948ء سے بے گھر ہیں جلد اپنے وطن اور اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔ اور عنقریب جب ہم سب کی کوششیں اور اس حوالے سے ہم سب کا ایک ہی موقف فلسطین کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور ہم سب اللہ کے حکم سے مسجد اقصی میں اکھٹے باجماعت نماز ادا کرسکیں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاک فلسطین فورم مولانا فتیح اللہ عثمانی نے فورم کے اغراض ومقاصد کو لوگوں کے سامنے رکھا اور بتایا کہ فورم کا بنیادی مقصد پاکستانی رائے عامہ میں مسئلہ فلسطین کی نزاکت وحساسیت کو اجاگر کرنا اور عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کا پردہ فاش کرنا ہے، انہوں نے کہاکہ مظلوم فلسطینیوں پر 75 سالوں سے ظلم کررہا ہے اور امن ٹھیکیدار آج بھی کہتے ہیں کہ اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے دنیا کی یہ الٹی منطق کب تک چلے گی ظلم بھی وہ کرے اور دفاع کا حق بھی اسے حاصل ہے

انہوں نے کہا کہ یوکرائن کے خلاف روسی حملے پر تو تمام دنیا متحد ہوگئی اور یوکرائن کے حق دفاع کو فوراً تسلیم کرلیا گیا لیکن فلسطینی عوام جو عرصہ 75 سالوں سے اپنے وطن کی آزادی کی خاطر اور ناجائز اسرائیلی قبضے کے خلاف سینہ سپر ہیں ، آئے دن اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں مظالم ومصائب سے دوچار ہیں لیکن ان کے حق میں کوئی بات کرنے والا نہیں، انہوں نے دنیاکے اس دوہرے معیار کی شدید مذمت کی، اور پوری دنیا سے بالعموم اور خاص کر عالم اسلام سے اپیل کی کہ وہ اس حوالے سے اپنی خاموشی توڑیں اور اعلان بالفور کے ذریعے وجود میں آنے والی ناجائز اسرائیلی ریاست کے خلاف آواز بلند کریں، انہوں نے او آئی سی اور عرب لیگ کے علاوہ دیگر اسلامی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ کب تک ہم اپنے مسائل کے حل کے لئے مغرب پر تکیہ کئے رہیں گے اور اسرائیلی مظالم پر خاموش تماشائی بنے رہیں گے،وقت آ گیا ہے کہ تمام امت مسلمہ اس بارے میں یکسو ہو کر اپنی دینی وملی ذمہ پوری کرے اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کے خلاف مل جل کر اقدامات اٹھائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ ماہ سے ہمارے دوست ملک چائنہ نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں
اور انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات قائم کرانے والے بعض لوگ ملک وملت کے غدار ہیں
اس طرح کی سوچ رکھنے والوں کی پاکستان میں کوئ جگہ نہیں ہے پاکستان کو کمزور کرنے اور پاکستان کے خلاف سازش کرنے میں اسرائیل اور انڈیا ایک پیج پر ہیں آج کچھ لوگ پاکستان کی فوج پر حملہ آور ہیں اس کے پیچھے بھی اسرائیلی لابی ہے چونکہ اسرائیل آج بھی اپنے راستے کی رکاوٹ کسی کو سمجھتا ہے تو وہ پاکستان اور پاکستانی مظبوط دفاع کو سمجھتا ہے اور کہا کہ ہمارے دو دشمن ہیں ایک قریب ہے اور ایک دور ہے دونوں نے ہماری سرزمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے قریب والے انڈیا نے ہماری زمین کشمیر پر اور دور والے دشمن اسرائیل نے ہماری مقدس سررزمین بیت المقدس پر قبضہ کیا ہوا ہے
اگر امریکہ ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کے پشت پناہی کرنا آپنا فرض سمجھتا ہے تو پھر ہم امریکہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مظلوم فلسطینیوں کے لیے تحفظ کی قسم کھائی ہے
اس موقع پر فورم کے وائس چیئرمین ڈاکٹر اسد نور مرزا نے فلسطینی عوام کے لئے پاکستانی عوام کی محبت اور لگاؤ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا فلسطین سے آج کا نہیں جب پاکستان بنا نہیں تھا بانی پاکستان اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے فلسطین کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ ہر طرح سے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں آج تک ہم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور فلسطین کی آزادی تک کھڑے رہیں گے
حاضرین کو بتایا کہ کس طرح اسرائیلی جارحیت کے ہاتھوں فلسطینی عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ زندہ رکھیں، اور فلسطینی عوام کی ہر طرح کی جانی ومالی امداد کو اپنا مشن بنا لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں