لاہور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو صحافی عمران ریاض کی بازیابی کیلئے 22 مئی تک مہلت دے دی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں صحافی اور اینکر پرسن عمران ریاض کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے عمران ریاض کے گھر ریڈ کرنے پر آئی جی پنجاب سے تحریری جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ آئی جی پنجاب عدالتی اوقاتِ کار میں تحریری جواب جمع کرائیں،بتایا جائے کہ عمران ریاض کے گھر ریڈ کیوں کیا گیا اور مقصد کیا تھا؟ عدالت اس معاملے کو کسی منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو عمران ریاض کی بازیابی کیلئے 22 مئی تک مہلت دے دی،کیس کی سماعت 22 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔یاد رہے کہ اس سے قبل صحافی عمران ریاض کی فیملی نے سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے آئی جی پنجاب اور ڈی پی او سیالکوٹ کو درخواست جمع کروائی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں عمران ریاض کی بازیابی کیلئے کیس زیر التوا ہے،عدالت عالیہ میں وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ہمیں پوری فیملی کو نامعلوم افراد گھر میں آ کر دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ گرفتار کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ جب ہم نے ان سے ایف آئی آر کے بارے میں پوچھا تو ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا،آج لاہور ہائیکورٹ نے بھی آئی جی پنجاب کو ہدایات جاری کی کہ عمران ریاض کی فیملی کو تحفظ فراہم کیا جائے،اس سلسلے میں ڈی پی او سیالکوٹ نے کہاکہ آپ درخواست لکھ کر دیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ ہم ڈی پی او سیالکوٹ کے کہنے پر درخواست لکھ کر دے رہے ہیں تاکہ سکیورٹی فراہم کی جائے اور سرکاری گارڈ،پولیس والے ہر وقت حفاظت کیلئے گھر کے باہر موجود رہیں۔







