لاہور(قوم انٹرنیشنل)نیب نے وزیراعظم شہبازشریف کے داماد ہارون یوسف کو منی لانڈرنگ کے الزام سے بے قصور قرار دے دیا۔لاہوراحتساب عدالت نے ہارون یوسف کی عبوری ضمانت واپس لینے کی بنیاد پرنمٹا دی۔شہباز شریف سمیت دیگرکیخلاف منی لانڈرنگ ریفرنس پرسماعت ہوئی۔
عدالت نے سپلیمنٹری رپورٹ کی کاپی ملزمان کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔جج احتساب عدالت نے ریماکس میں کہا کہ آئندہ سماعت پرعدالت ریکارڈ کی بنیاد پرفرد جرم عائد کرنے کا جائزہ لے گی ،عدالت میں شہباز شریف کے نمائندے نے پیش ہوکر حاضری مکمل کروائی۔بعدازاں عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس پر سماعت 31 مئی تک ملتوی کردی۔منی لانڈرنگ کے مذکورہ ریفرنس میں نیب نے شریف خاندان کے بے نامی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگانے کے دعویٰ کیا تھا جس کے ذریعے انہوں نے اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں اربوں کی جعلی ترسیلات وصول کیں،
ان کے علاوہ غیر ملکی پے آرڈرز کے ذریعے اربوں روپے کی لانڈرنگ کی گئی جو ان کے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹے سلیمان، بیٹی رابعہ عمران اور داماد ہارون یوسف عدالت کی جانب سے کارروائی میں پیش نہ ہونے پر مفرور قرار دیے گئے تھے۔سلیمان شہباز نے حال ہی میں خود ساختہ جلاوطنی ختم کردی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے عبوری حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آگئے۔سلیمان شہباز ایف آئی اے میں درج منی لانڈرنگ کیس میں ملزم تھے جبکہ نیب نے انہیں آمدن سے زائد اثاثوں میں نامزد کر رکھا ہے۔انہیں دونوں مقدمات میں اشتہاری قرار دیا جاچکا تھا
تاہم ان کی وطن واپسی سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب اور ایف آئی اے کو سلیمان شہباز کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔وزیر اعظم کے صاحبزادے نے احتساب عدالت میں سرنڈر ہونے کے بعد نیب کے منی لانڈرنگ کے ریفرنس میں عبوری درخواست ضمانت دائر کی تھی جسے منظور کرلیا گیا تھا۔منی لانڈرنگ ریفرنس میں وزیر اعظم شہباز شریف، ان کے بیٹے حمزہ شہباز، بیٹی جویریہ علی کے علاوہ فضل داد عباسی، راشد کرامت، محمد عثمان، مسرور انور، نثار احمد، شعیب قمر اور قاسم قیوم سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔خیال رہے کہ ایف آئی اے کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے بری کیا جاچکا ہے۔







