وزیراعظم سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات

لاہور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) وزیراعظم شہباز شریف اور سربراہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ملاقات کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پہنچے، ملاقات میں مجموعی سیاسی، امن و امان سمیت معاشی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے بجٹ تفصیلات سے متعلق مولانا فضل الرحمان سے مشاورت کی جبکہ سربراہ پی ڈی ایم نے شہباز شریف کو عوامی ریلیف کے اقدامات بارے اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔بعدازاں سربراہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) مولانا فضل الرحمان سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے گھر پہنچے اور ان کے بڑے بھائی سردار محمود صادق کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔مولانا فضل الرحمان نے سردار محمود صادق کی مغفرت اور درجات کی بلندی کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔ایاز صادق کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عدلیہ کے جانبداری کا مظاہرہ کرنے پر ہم عوامی عدالت میں گئے، ہم نے اسلام آباد میں ریلی نکالی، بڑی تعداد میں لوگ آئے اور عدلیہ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا، ہم عدلیہ کے خیرخواہ ہیں، بدخواہ نہیں ہیں لیکن جمہوریت میں یہی ہوتا ہے کہ ملک کے کسی ادارے کی کارکردگی پر عوام کو اعتراض ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے دیتے ہیں جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 9 مئی کے احتجاج کے دوران ریاستی اداروں پر حملہ کیا، جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ ہوگا تو آرمی ایکٹ حرکت میں آئے گا، یہ ایک نئی صورتحال سے جس کو ماضی کے کسی واقعے سے نہیں جوڑا جاسکتا، آرمی ایکٹ باقاعدہ قانون کا حصہ ہے اور اس کے خلاف اپیل بھی کی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں