لاہور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)مسلم لیگ(ن) میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ،اہم رہنماؤں کو عہدوں سے ہٹا کر نئے لوگوں کو ذمہ داریاں سونپی جارہی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن نے سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل اور شاہ محمد شاہ کو پارٹی عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔چیف آرگنائزر مریم نواز نے پارٹی کے سینئر عہدیداروں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی صدر شاہ محمد شاہ اور جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل کو عہدوں سے ہٹاکر نئے لوگوں کو ذمہ داری دی جائے گی۔مریم نواز نے شاہ محمد شاہ اور مفتاح اسماعیل کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دے دیا۔ چیف آرگنائزر نے فیصلہ کیا ہے کہ مفتاح اسماعیل کو پارٹی عہدے سے الگ کرکے آئندہ کوئی اہم ذمہ داری نہیں دی جائے گی۔مریم نواز نے سینئر رہنماؤں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اہم کارکنوں کو پارٹی کو خیرباد کہنے پر انہیں نہیں روکا، قیادت کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔واضح رہے کہ مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹائے جانے اور سلیمان شہباز کی جانب سے تنقید کے بعد پارٹی قیادت اور پالیسیوں سے اختلافات کا اظہار کھل کر چکے ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن ) کے قائد نوازشریف نے شاہد خاقان عباسی کو ٹیلیفون کر کے تحفظات دور کرنے کیلئے لندن آنے کی دعوت دی ہے ۔ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی پارٹی سے اختلاف کے باعث جنرل کونسل اجلاس میں نہیں پہنچے تھے جس کے بعد پارٹی قائد نے ان سے رابطہ کیا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، ان کا کہنا تھا آذربائیجان سے ایل این جی کارگو پاکستان کی نجی کمپنی کے ذریعے خریدے جائیں۔ پیٹرولیم ڈویژن نے شاہد خاقان عباسی کی ہدایت کے مطابق سمری تیار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔واضح رہے کہ جمعہ کو وزیر اعظم شہبازشریف کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کا جنرل کونسل اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے گئے ۔ اجلاس میں پارٹی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے رہنمائوں شاہد خاقان عباسی، مہتاب عباسی اور مفتا ح اسماعیل کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم ان رہنمائوں نے غیر اعلانیہ احتجاج کیا اور اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعظم شہبازشریف کی جانب سے نام لئے بغیر سخت پیغام دیا گیا ۔انکا کہناتھا جو لوگ آج اسحاق ڈار کیخلاف باتیں کررہے ہیں ان کو پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہماری ٹیم ایک طرف ملک کی ترقی کیلئے دن رات ایک رات کررہی ہے دوسری طرف اس طرح کے لوگ پارٹی کی جڑیں کاٹ رہے ہیں لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان کو اب پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔







