اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ آئین اور قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات کے تحت پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کو ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے ۔
جمعرات کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر رمیش لعل نے کہا کہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے یونیورسٹیوں میں ہولی کی تقریبات منانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، ہندو کمیونٹی کا صرف ایک پروگرام ہوتا ہے ،سپیکر اس معاملہ کا نوٹس لیں ۔رکن قومی اسمبلی کھیل داس نے کہا کہ ہم قائداعظم کے پاکستان میں رہتے ہیں جنہوں نے غیر مسلموں کو مکمل آزادی دینے کی بات کی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس نوٹیفکیشن کو فوری واپس لیا جائے، اس ملک میں مذہبی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھارت میں اس معاملہ بات کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خاموش ہو جائیں، یہ ہمارا اپنا معاملہ ہے، ہم یہاں مکمل آزاد ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ بھارت مسلمانوں کے ساتھ کیا برتائو کرتا ہے۔ شاہدہ رحمانی نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے تقریبات پر پابندی عائد کی گئی ہے جو قابل مذمت ہے
۔سپیکر نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگوں کو ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے، قرارداد مقاصد میں بھی اس کا ذکر ہے، آئین کے آرٹیکل 20 کے مطابق ہر شہری کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے، آئین ان آزادیوں کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ وزیراعظم نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے، میں بھی رولنگ دیتا ہوں کہ جس نے بھی یہ آرڈر دیا ہے وہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، پارلیمنٹ مزید بھی اس حوالے سے دیکھے گی کہ کیا کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مختلف اراکین اسمبلی کے نکتہ ہائے اعتراض کے جواب میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ہولی کے تہوار پر ایک خط کا ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہولی کی تقریبات کی آڑ میں بعض ایسی باتیں سامنے آئیں جن کی ہمارا معاشرہ اجازت نہیں دیتا
۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے فرمودات کے مطابق ہر مذہب کا پیروکار یہاں آزاد ہے، وہ اپنی مذہبی تقریبات آزادی کے ساتھ منعقد کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے رات دس بجے اس معاملہ کا علم ہوا اور کہا کہ یہ خط واپس لیا جائے، علی الصبح مجھے بتایا کہ یہ خط واپس لے لیا گیا ہے، میں نے اس معاملہ کا انتہائی سخت نوٹس لیا جائے، ہولی پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو عید کی نماز تک پڑھنے نہیں دی جاتی، یہاں غیر مسلم پاکستانی مکمل آزاد ہیں، ایچ ای سی کو آئندہ ایسے اقدامات سے روک دیا ہے، ان سے کہا ہے کہ آپ کا کام معیار تعلیم کو بہتر بنانا ہے، آپ اس طرف توجہ دیں۔وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے کہا کہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے یونیورسٹیوں میں ہولی کی تقریبات کے انعقاد کے خلاف نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے، بھارت میں اس حوالے سے واویلا حقائق کے برعکس ہے، وہاں پر مسلمانوں کو عید کی نماز بھی ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جبکہ یہاں غیر مسلم پاکستانی مکمل آزاد ہیں۔







