شدید بارشیں، آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 9 افراد جاں بحق

لاہور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)ملک بھر میں شدید بارشوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے باعث بچوں سمیت 9 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ملک بھر میں شدید بارشیں جاری ہیں جس کے باعث موسم خوشگوار ہو گیا ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔

ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ، ظفر ووال میں میں بارشوں کے دوران آسمانی بجلی گر گئی ، آسمانی بجلی گرنے کے واقعات موضع رتن پور، چانگو والی، قانگوئی میں پیش آئے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کے باعث دو بچوں سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے ۔اس دوران 4 افراد شدید زخمی ہو گئے، جن میں دو افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب شیخوپورہ میں بھی آسمانی بجلی گرنے کے مختلف واقعات میں 2افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا، حکام کے مطابق واقعات منڈیالہ گاؤں اور چک شاہ پور میں رونما ہوئے۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلاھار بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ طوفانی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ کئی نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔ دکی میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔

کوئٹہ اور اطراف میں ہلکی اور تیز بارش کے بعد موسم انتہائی خوشگوار ہوگیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی ۔ خضدار میں موسلادھار بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی ، نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔

مستونگ میں موسلادھار بارش کے باعث پنچپائی کے علاقے میں ریلوے ٹریکس زیرآب آگئے۔ جس کے باعث ریلوے ٹریکس کو نقصان پہنچے کا خدشہ ہے۔ قلات اور اطراف کے علاقوں میں بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا ، گرمی کا زور ٹوٹ گیا ۔۔

قلعہ سیف اللہ ڈیری پڑی کے مقام پر کمسن بچہ سیلابی ریلے میں ڈوب گیا ، دو غوطہ خوروں نے بچے کی تلاش شروع کردی ،علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دلدلی پانی کے باعث ریسکیو آپریشن میں دشواری کا سامنا ہے۔

کوہلو کے علاقے شاہیجہ آباد میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا ، لیویز کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر کوہلو نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔

ڈپٹی کمشنر کوہلو اعجاز احمد کا کہنا ہے انتظامی مشینری حرکت میں ہے ، سیلابی ریلوں کا رخ شہری اور رہائشی آبادیوں سے موڑا جارہا ہے۔

دکی کے علاقے لونی میں آسمانی بجلی گرنے سے 11 سالہ بچہ جاں بحق جبکہ اس کا بھائی زخمی ہوگیا ۔ متوفی بچے کی شناخت پیر احمد لونی کے نام سے ہوئی ہے۔

ضلع زیارت اور نواحی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ کئی نشیبی علاقے زیرآب آگئے ۔ ورچوم کے علاقے میں ندی کا پانی سڑک پر آگیا ۔جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثرہ ہوئی ۔ زیارت کوئٹہ شاہراہ بند ہونے سے گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، کئی سیاح اور گاڑیاں پھنس گئیں ۔

اس سے قبل ٹویٹر پیغام میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آج سے ملک بھر میں 30 جون تک پری مون سون بارشوں کی پیشگوئی ہے، پری مون سون بارشوں سے موجودہ شدید گرمی کی لہرمیں کمی کا امکان ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش کی توقع ہے، کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں بھی موسلاد ھاربارش کا امکان ہے۔ سسٹم کے زیر اثر بلوچستان،جنوبی پنجاب اورسندھ میں آندھی،گرج چمک اورموسلادھار بارش کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا کہ شدید بارشوں سے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ،پہاڑی علاقوں میں سیلاب اورلینڈ سلائیڈنگ کا اندیشہ ہے، تمام متعلقہ اور مقامی اداروں کو الرٹ رہنے اور سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔

شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں سے درخواست ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے تیز ہوائوں اور بارشوں کے دوران کمزور انفرا اسٹرکچر، بجلی کے کھمبوں اور ندی نالوں سے دور رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں