اسلا م آباد(کیپیٹل رپورٹ) الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی پارٹی انتخابات اور بلے کا نشان واپس دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ موصول ہو گیا جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے۔
الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں تھا۔ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے متعلق سرٹیفیکٹ ویب سائٹ پر جاری کرے۔پی ٹی آئی بلے انتخابی نشان کی حقدار ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اہم اجلاس طلب کرلیا جو اجلاس آج صبح الیکشن کمیشن سیکرٹرٹ میں ہوگا،ذرائع کے مطابق اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجہ کی سربراہی میں ہوگا، اجلاس میں کمیشن کے چاروں ممبران اورسپیشل سیکرٹریز کو طلب کرلیا گیا ہے ،کمیشن پشاورہائی کورٹ کے فیصلے پر مشاورت کرے گا ،
الیکشن کمیشن کا لا ونگ کمیشن کو پشاور ہائی کورٹ فیصلے سے متعلق قانونی نکات پر بریفنگ دیگا،ذرائع کا کہنا ہے قانونی ٹیم کی بریفنگ کے بعد پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائیگا۔خیال رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے انتخابی نشان کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف )پی ٹی آئی)کو بلے کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔عدالت نے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے،
الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کا پارٹی سرٹیفکیٹ الیکشن ایکٹ 2017 کے شق 209 کے تحت ویب سائٹ پر شائع کرے، اور آرٹیکل 215 کے تحت الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلاالاٹ کرے۔عدالت نے کہا کہ تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس کی سماعت کی۔ پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کا بلے کا انتخابی نشان بحال کردیا ہے، اس حوالے سے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے الیکشن کمیشن کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔







