سوات: خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں سے دریائے سوات بپھر گیا، سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، ایک ہی خاندان کے 15 افراد سمیت 78 افراد بہہ گئے، 7 افراد کی نعشیں نکال لی گئیں جبکہ 60 افراد کو بچا لیا گیا ہے، پاک فوج کے دستے بھی امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچ گئے ہیں۔
دریائے سوات میں آنے والے سیلابی ریلے سے 7 مختلف مقامات پر 78 افراد بہہ گئے جن میں ایک ہی خاندان کے 15 سیاح شامل ہیں جن کا تعلق ڈسکہ سے ہے۔کمشنر مالاکنڈ ڈویژن عابد وزیر نے دنیا نیوز کو بتایا ہے کہ سیلاب کے باعث اب تک 7 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، 10 سیاحوں کی تلاش جاری ہے جبکہ اب تک 60 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ہی خاندان کے جو 10 افراد ڈوب گئے ہیں، انہیں دریا میں جانے سے روکنے کی کوشش بھی کی گئی تھی، مالا کنڈ ڈویژن کے تمام دریاؤں میں نہانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کی خلاف ورزی پر 40 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے جاری ہے۔
ریسکیو 1122 سوات کے ترجمان نے بتایا کہ تمام ٹیمیں ہمہ وقت فیلڈ میں موجود ہیں، براما خیلہ مٹہ سے 30 افراد اور امام دھرئی کے مقام پر 22 افراد کو ریسکیو کیا گیا، انگر وڈھیرئی سے 3 افراد کی نعشیں نکالی گئیں، پنجگرام کے مقام پر ایک شخص ڈوب گیا، غالیگے سے بھی ایک لاش ملی ہے۔
ڈسکہ سے سیر کے لیے جانے والے شہری عدنان نے بتایا کہ میرے خاندان کی 4 خواتین اور 6 بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ ہمارے علاوہ بھی 3 افراد دریا برد ہو گئے، صبح ناشتے کے لیے دریائے سوات کے کنارے موجود تھے کہ اچانک سیلاب آ گیا۔







