اسلام آباد (ملک راشد نزیر)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری بلوچ خواتین کے احتجاج کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حکومت اور ضلعی انتظامیہ تاحال نہ تو مسئلے کو سنجیدگی سے لے سکی ہے اور نہ ہی کسی بامعنی بات چیت کا آغاز کیا گیا ہے۔ دوسری جانب احتجاجی مقام پر سیکیورٹی کے نام پر چائنا چوک سے لے کر سپر مارکیٹ چوک تک مرکزی شاہراہ کو خار دار تاریں لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جب کہ نیشنل پریس کلب کے مین گیٹ کو بھی دو مختلف مقامات سے رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے۔ اس بندش کے نتیجے میں شہریوں، صحافیوں، میڈیا نمائندگان اور مقامی تاجروں کو شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔نیشنل پریس کلب تک رسائی دشوار، صحافتی سرگرمیاں متاثرراستے بند ہونے کے باعث نیشنل پریس کلب اسلام آباد تک رسائی نہ صرف دشوار ہو گئی ہے بلکہ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ روزانہ درجنوں صحافی، تجزیہ نگار، اور پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے مہمان طویل اور غیرمحفوظ متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ سیکیورٹی کے نام پر لگائی گئی خار دار تاریں نہ صرف آمد و رفت کو روک رہی ہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی بھی کر رہی ہیں۔صحافیوں کے مطابق پریس کلب کے باہر قائم کیے گئے اضافی ناکے اور بندشیں آزادی صحافت اور اظہار رائے کی راہ میں رکاوٹ بن چکی ہیں۔ اکثر اوقات پولیس اہلکار شناخت کے باوجود بھی صحافیوں کو روکتے ہیں، جو کہ ناقابل قبول عمل ہے۔مقامی کاروبار ٹھپ، پٹرول پمپ مالکان کو روزانہ لاکھوں کا نقصاناحتجاجی مقام کے نزدیک واقع پی ایس او پیٹرول پمپ کا کاروبار بھی ضلعی انتظامیہ کی “سیکیورٹی حکمتِ عملی” کی وجہ سے مکمل طور پر متاثر ہو چکا ہے۔ پمپ تک گاڑیوں کی رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف روزانہ کی فروخت میں لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ وہاں کام کرنے والے درجنوں ملازمین کے لیے روزگار کا مسئلہ کھڑا ہو چکا ہے۔ پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے نقصان برداشت کر رہے ہیں، لیکن انتظامیہ نے ان سے نہ کوئی مشاورت کی اور نہ ہی کسی متبادل راستے کا انتظام کیا۔شہریوں کا مطالبہ: سیکیورٹی کے نام پر شہری حقوق سلب نہ کیے جائیںاسلام آباد کے شہریوں اور مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنا مظاہرین کا آئینی حق ہے، مگر عوامی راستوں کو بند کر دینا، کاروبار مفلوج کر دینا اور صحافیوں کی نقل و حرکت روک دینا، ریاستی نااہلی اور غیر جمہوری طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے دو ماہ گزرنے کے باوجود کوئی واضح لائحہ عمل تیار نہیں کیا، نہ مظاہرین سے کوئی رسمی مذاکرات کیے گئے اور نہ ہی متبادل راستوں کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔ ایسے حالات میں عام شہری خود کو غیرمحفوظ اور لاچار محسوس کر رہے ہیں۔بلوچ خواتین کے مطالبات: لاپتہ افراد کی بازیابی اور انصافواضح رہے کہ احتجاج میں شریک بلوچ خواتین کا مؤقف ہے کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت حراستوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے، ان کے اہل خانہ کو ان کی خیریت کے بارے میں بتایا جائے، اور ہر شہری کو آئین کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، صرف انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔انتظامیہ کی خاموشی، ریاستی رویہ زیر سوالافسوسناک امر یہ ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے نہ تو مظاہرین کے ساتھ کوئی باقاعدہ رابطہ کیا گیا ہے اور نہ ہی پریس کلب، میڈیا یا تاجر برادری کو اس صورتحال کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی کے نام پر شہری آزادیوں کو محدود کرنا، صحافیوں کی نقل و حرکت کو روکنا اور کاروبار زندگی کو متاثر کرنا ایک قابلِ مذمت عمل ہے جس پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔مطالبہ: فوری مذاکرات اور راستوں کی بحالیشہری، صحافتی ادارے، اور کاروباری طبقہ حکومت سے پرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ:احتجاجی خواتین کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔فوری اور سنجیدہ مذاکراتی عمل شروع کیا جائے۔بند راستوں کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ شہریوں اور صحافیوں کی روزمرہ نقل و حرکت بحال ہو۔متاثرہ کاروبار خصوصاً پیٹرول پمپ کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔







