آئی ایم ایف سے ٹیکس ہدف میں 100 ارب تک کمی کی درخواست کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر ایک بار پھر آئی ایم ایف سے رواں مالی سال 26-2025 کے ٹیکس ہدف میں کمی کیلئے درخواست کرے گا جس کی ورکنگ تیار کی جا رہی ہے، جولائی سے جنوری مہنگائی اور معاشی ترقی کے مطابق ٹیکس آمدن کا جائزہ لیا جائے گا۔
ابتدائی تجاویز یہ تیار کی گئی ہیں کہ آئی ایم ایف سے 100 ارب روپے تک ٹیکس ہدف میں کمی کیلئے درخواست کی جائے گی، کم سے کم یہ 50 ارب روپے تک ہو سکتی ہے، ایف بی آر نے مذاکرات کیلئے تیاریاں تیز کر دی ہیں اور یہ تجاویز حکومتی سطح پر ٹاپ لیول پر بھی ڈسکس ہوئی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق ایف بی آر کی تیاریاں جاری ہیں، پریزنٹیشن فائنل ہونے کے مراحل میں ہے، حالیہ دنوں میں جب آئی ایم ایف سے اقتصادی جائزہ کیلئے تیاریوں پر وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی تو وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رواں مالی سال 30 جون تک کوئی ٹیکس نہ لگایا جائے اور ایف بی آر نیا ٹیکس لگائے بغیر ٹیکس ہدف پورا کرے، منی بجٹ لائے بغیر ٹیکس آمدن کے ہدف کے قریب تر پہنچنے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔

آئی ایم ایف سے جولائی سے جنوری کے دوران تک ٹیکس ڈیٹا پر تبادلہ خیال ہوگا، جولائی سے جنوری مہنگائی اور معاشی ترقی کے مطابق ٹیکس آمدن کا جائزہ لیا جائے گا، اگر آئی ایم ایف، ایف بی آر کی تجاویز سے اتفاق کرے تو رواں مالی سال کیلئے ایف بی آر ٹیکس ہدف کو 13 ہزار 979 ارب سے کم کر کے 13 ہزار 879 ارب روپے تک لانے کی کوشش کرے گا، سپرٹیکس کے فیصلے سے بھی ٹیکس آمدن میں اضافے پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دی جائے گی، جولائی سے جنوری ایف بی آر مجموعی طور پر 7 ہزار 147 ارب روپے جمع کر سکا ہے، جولائی سے جنوری کیلئے ایف بی آر کا ہدف 7 ہزار 521 ارب روپے تھا۔

ایف بی آر کو رواں مالی سال جولائی سے جنوری 372 ارب روپے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مہنگائی اور معاشی ترقی کی شرح کے حساب سے ٹیکس کلیکشن پر خصوصی سیشن ہوگا، رواں مالی سال سپر ٹیکس سے 217 ارب روپے کی وصولی کا امکان ہے۔

ایف بی آر حکام پُرامید ہیں کہ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں شاپنگ سے سیلز ٹیکس کی آمدن میں اضافہ ہو گا، گزشتہ ماہ کے دوران وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سپر ٹیکس کے حق میں فیصلے کے باوجود ایف بی آر کو ماہانہ ٹیکس ہدف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، ابتدائی طور پر ایف بی آر نے وفاقی آئینی عدالت سے فیصلے کی بنیاد پر 300 ارب روپے کی وصولی کی توقع ظاہر کی تھی، رواں مالی سال جولائی سے جنوری تک 340 ارب روپے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے جا چکے ہیں، گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے دوران 314 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے گئے تھے۔

ایف بی آر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مارچ 2026 تک 9917 ارب روپے ٹیکس محصولات جمع کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے، اب تک 7 ہزار 147 ارب روپے کی وصولی کے بعد باقی مدت میں مزید 2 ہزار 765 ارب روپے سے زائد اکٹھے کرنا ہوں گے، رواں ماہ فروری کیلئے ایف بی آر کا ہدف بھی تقریباً ڈیڑھ ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہے، ایف بی آر نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ سالانہ ٹیکس ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے کو کم کر کے آئی ایم ایف معاہدے کے تحت 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا ہے، تاہم پارلیمنٹ نے تاحال اس نظرثانی شدہ ہدف کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔

رواں مالی سال ایف بی آر کی ریونیو گروتھ تقریباً 12 فیصد تک ریکارڈ ہوئی ہے، جولائی سے جنوری کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں نیٹ آمدن 3 ہزار 496 ارب روپے، سیلز کی مد میں 2 ہزار 240 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 462 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 750 ارب روپے جمع ہوئے ہیں، گزشتہ مالی سال 2024-25 کے پہلے سات ماہ کے دوران 6 ہزار 699 ارب روپے ٹیکس کلیکشن ریکارڈ ہوئی تھی، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ماننے یا نہ ماننے پر فیصلہ منحصر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں