اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کا مقدم کیا ہے اور کہا کہ خطے میں امن کے خواہش مند ہیں ،امن کی بحالی جیسے اقدامات کی بھر پورسپورٹ کریں گے ،ایٹمی پروگرام کا معاملہ کسی مالیاتی ادارے کے ساتھ ایجنڈے پر نہیں ،ایٹمی پروگرام پر قیاط آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا ۔بھارت اور یورپ میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافے پر تشویش ہے،وزیراعلیٰ کرناٹک کے ریمارکس خطے میں منفی اثرات مرتب کررہے ہیں ،کشمیر قیادت کی غیر قانونی حراست اور انہیں ہراساں کئے جانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا موریطانیہ کا دورہ مکمل ہوگیا ہے ،وزیر خارجہ نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کی صدارت موریطانیہ کے حوالے کی،فلسطین اور کشمیر کا معاملہ اجاگر کیاگیا،افغانستان کی صورتحال پر بھی بات ہوئی ،وزیر خارجہ نے او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کے اجلاس میں بھی شرکت کی ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں،کشمیر،اسلاموفوبیا اور پاکستان کے موقف کی بات کرتے ہیں، وزیر خارجہ کا کام ہی پاکستان کی نمائندگی اور عالمی برادری سے رابطے رکھنا ہے،انہوںنے کہا کہ پاکستان کے سفیر برائے آسٹریا کو آئی سی کا اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سائنس منتخب کیا گیا،وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے لندن میں دولت مشترکہ اجلاس میں شرکت کی،15 مارچ کو پاک امریکہ توانائی ڈائیلاگ اسلام آباد میں منعقد ہوئے،پاک امریکہ گرین الائنس فریم ورک کے تحت دونوں ملکوں نے قابل تجدید توانائی پر توجہ مرکوز کی،ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی،پاکستان اور آسٹریلیا کے حکام کے درمیان اعلی سطح پر بات چیت کا 8 واں دور اسلام آباد میں ہوا،پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مائیگریشن،موسمیاتی تبدیلی سمیت اہم امور پر بات چیت ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان ٹریڈ ڈائیلاگ کا دور بھی اسلام آباد میں ہوا،پاک آسٹریلیا ڈائیلاگ میں باسمتی چاول کی جیوگرافک ٹیگنگ پر بھی بات چیت ہوئی، ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایس سی او اجلاسوں میں جسٹس منیب اختر اور وفاقی وزیر خرم دستگیر نے پاکستان کی نمائندگی کی،آج وزیر اعظم کے مشیر عون چوہدری بھی ایس سی او اجلاس میں ویڈیو لنک پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ خارجہ نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ ایسے اقدامات سے خطے میں خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے ،ترجمان نے پاکستان کا یورپمیں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافے پر اظہار تشویش کیا ہے ،بھارت میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم اور وزیر اعلی کرناٹک کے ریمارکس خطے پر برے اثرات مرتب کررہا ہے ، ترجمان نے کہا کہ چین نے پاکستان میں اس وقت سرمایہ کاری کی جب کوئی اور تیار نہیں تھا، پاکستانی عوام کو چین سے دوستی پر فخر ہے،چین ہمیشہ ضرورت کے وقت پاکستان کی مدد کو آیا،چینی قرضوں کے معاملے کو میڈیا میں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا،پاکستان اور چین ہر معاملے پر مشاورت کرتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان آنے والا آسٹریلین وفد سینئر حکام پر مشتمل تھا جو پہلے سے طے شدہ مذاکرات کے لئے آیا،انہوں نے کہا کہ کشمیر قیادت کی غیر قانونی حراست اور انہیں ہراساں کئے جانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،سیکرٹری خارجہ اسد مجید اس وقت بیجنگ میں پاک چین دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کے لئے موجود ہیں ،سیکرٹری خارجہ کی چینی اسٹیٹ قونصلر سمیت دیگر اعلی عہدیداروں سے ملاقاتیں ہوں گی،ایس سی او کے متحرک رکن کے طور پو پاکستان تنظیم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہا ہے،ترجمان نے کہا کہ اعلیٰ پاکستانی حکام کی بھارت میں ایس سی او اجلاس میں شرکت کے معاملے پر فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا،پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ کسی حکومت کسی مالیاتی ادارے کے ساتھ ایجنڈے پر نہیں، پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں،پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، آئوکس ڈیل پر پاکستان کی آسٹریلین وفد سے بات ہوئی۔ترجمان دفتر خارجہ نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے سوال کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ کفایت شعاری کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر عمل پیرا ہے،یوم پاکستان پر پاکستانی سفارتخانوں میں مختص شدہ بجٹ کے مطابق ہی تقاریب منعقد کی جائیں گی،لازمی نہیں کہ میڈیا رپورٹس اصل صورتحال کی عکاسی کریں،انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات کئی دہائیوں پر مبنی ہیں،علاقائی و عالمی صورتحال تبدیل ہونے کے باوجود پاکستان اور چین کے تعلقات میں اضافہ ہوا ہے،کسی ایک فرد کے بیان سے پاک چین تعلقات متاثر نہیں ہو سکتے، پاکستان بھارت میں ایس سی او اجلاس کے حوالے سے دعوت ناموں کا جائزہ لے رہا ہے،کئی ماہ پہلے کسی دعوت نامے پر فیصلہ لینا قبل از وقت ہو گا۔







