فیصلے کی شدید مذمت، ورکرز کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا: ملک ممتاز احمد
آئل سیکٹر سب سے زیادہ کنٹریبیوشن دیتا ہے مگر ورکرز محروم ہیں: سید اعجاز بخاری
اسلام آباد: او جی ڈی سی ایل یونین آفس میں ورکرز ویلفیئر فنڈ کے حالیہ متنازعہ فیصلے کے خلاف ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سی بی اے صدر زاہد حسین بھٹو نے کی۔ اجلاس میں جنرل سیکرٹری ملک ممتاز احمد، جنرل سیکرٹری آئل اینڈ گیس فیڈریشن سید اعجاز بخاری، سرپرست اعلیٰ ملک اسماعیل، شرافت اللہ خان، چوہدری ارمغان، نوید اسلم، توقیر منہاس، چوہدری مدثر اقبال سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زاہد حسین بھٹو نے کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں ورکرز ویلفیئر فنڈ انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر مزدور دشمن شقیں منظور کروائیں، جن کا نہ بورڈ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اراکین کو اعتماد میں لیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ فیصلے فوری طور پر واپس لیے جائیں، بصورت دیگر ہر فورم پر اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔
جنرل سیکرٹری ملک ممتاز احمد نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے ورکرز کو مختلف ہتھکنڈوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ورکرز کے کیسز بار بار مختلف وزارتوں میں بھیج کر تاخیر کا شکار کیے جا رہے ہیں، حالانکہ تمام ضروری کلیئرنسز مکمل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ترامیم بھی بورڈ کو بائی پاس کر کے منظور کی گئی ہیں، جو ناقابل قبول ہیں۔
سید اعجاز بخاری نے کہا کہ آئل سیکٹر، خصوصاً او جی ڈی سی ایل، ورکرز ویلفیئر فنڈ میں سب سے زیادہ مالی حصہ ڈالتا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں 100 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی جا چکی ہے، مگر اس کے باوجود ورکرز بنیادی سہولیات کے لیے دربدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنڈ کے نام پر بننے والا ادارہ خود ورکرز کے استحصال کا سبب بن رہا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کے ملازمین محض امین (کسٹوڈین) ہیں اور فنڈ ورکرز کی امانت ہے، مگر اس کے برعکس افسران اپنی مراعات میں اضافہ کر رہے ہیں اور بورڈ کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں، جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔واضع رہے کہ ورکرز ویلفیر کے تمام ملازمین جو کہ اس کے امین ہیں اپنی مراعات جس میں ان کے اپنے بچے سکیل ایک سے سیکرٹری تکاخود ملک کے سب سے مہنگے سکولوں ورکرز کے پیسوں سے نہ صرف تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ مہنگے ترین اسپتالوں میں علاج حاصل کر رہے ہیں جبکہ ورکرز دھکے کھانے پر مجبور ہیں اور یہ مراعات اسی طرع بورڈ کو علم میں لاۓ بغیر منظور کروا لیتے ہیں
اجلاس کے اختتام پر زاہد حسین بھٹو نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ورکرز کے نمائندے کے طور پر اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھائیں گے اور اس مزدور دشمن فیصلے کو واپس کروانے کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے دیگر بورڈ ممبران سے بھی اپیل کی کہ وہ اس قسم کی من مانیوں کا راستہ روکیں اور ورکرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔







