اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)سینیٹ گولڈن جوبلی تقریبات اختتام پذیر،اراکین سینیٹ نے ملک میں سیاسی عدم استحکام کے خاتمے اور ملکی معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے اپوزیشن اور حکومت کو مل بیٹھ کر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔جمعہ کے روز سینیٹ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر منعقدہ خصوصی اجلاس کے تیسرے دن قائد ایوان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی تقریبات نہ صرف خود احتسابی کا موقع دیتی ہے بلکہ مستقبل کیلئے بھی راہیں ہموار کرتی ہیں انہوںنے کہاکہ اجلاس کے دوران پاکستان کی معاشی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اس وقت ملک جس معاشی مشکلات سے اس وقت ملک گزر رہا ہے اور اس وقت ملک کا سیاسی درجہ حرارت بھی بہت زیادہ ہے اس پر بھی ہمیں بات کرنی چاہیے انہوں نے کہاکہ ہم اس بات کا اعادہ کریں کہ ریاست پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں کو سر جوڑ کر ملک کی معاشی اور سیاسی استحکام کیلئے اقدامات اٹھائیں انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے اس وقت حالات بہتری کی بجائے تنزلی کی جانب جارہے ہیں سیاسی عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ غیر آئینی مداخلت بھی ہے ملک میں دو ادوار میں آئین معطل رہا اور ملک پر مارشل لاء مسلط رہا انہوںنے کہاکہ سیاستدانوں کو اس بات کر سوچنا چاہیے کہ کیا ہم ان کیلئے راہیں ہموار نہیں کر رہے ہیں ہمیں سنجیدہ سیاستدانوں کے طور پر بردباری اور سنجیدگی سے ایک دوسرے کی بات سننی چاہیے انہوںنے کہاکہ افسوس ہے کہ اپوزیشن نے اس اہم موقع پر اجلاسوں میں شرکت نہیں کی اور جو باتیں اس ایوان میں ہوئی اگر اس کا حصہ اپوزیشن لیڈر اور اس کی ٹیم بھی ہوتی تو بہتر ہوتا انہوںنے کہاکہ سیاست تفریق کا نام نہیں بلکہ اپنے نظریے پر ڈٹے رہنے کا نام ہے اور گفت شنید ،دلائل سے دوسروںکو قائل کرنا چاہیے اور وطن عزیز میں بسنے والے لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے انہوںنے اپوزیشن کو دعوت دی کہ اس ملک کی بہتری کیلئے مل بیٹھ کر کام کریں سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہاکہ سینیٹ گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر تمام اراکین اور سینیٹ سٹاف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ سینیٹ کے قیام کا مقصد وفاق میں شامل یونٹوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے انہوں نے کہاکہ کوئی بھی قوم چھوٹی نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی زبان چھوٹی ہوتی ہے ہاں اگر حکمران کسی بھی علاقے کو اہمیت کم دیں تو وہ چھوٹی قوم ہوسکتی ہے انہوںنے کہاکہ پاکستان میں بے انصافی کا دور زیادہ رہا ہے اور اس کی نشانیاں آج بھی موجود ہیں اسی طرح ایک صوبے کے وزیر اعظم کی حیثیت اور ہوتی ہے اور دوسرے صوبے کے وزیر اعظم کی حیثیت اور ہوتی ہے ہمیں یہ ناانصافیاں ختم کرنی ہونگی انہوں نے کہاکہ ہم نے پاکستان میں تمام قوموں اور زبانوں کو برابری کے حقوق ملنے کی بات کی ہے مگر آج مختلف اداروںمیں تفریق واضح ہے جو یہ تفریق کرتے ہیں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ کرسی ہمیشہ نہیں ہوتی ہیں ہم عہدو ں کی بنیاد پر جو رویہ رکھتے ہیں وہ درست نہیں ہے جو سلوک ہمارے رہنمائوں کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ دوسرے صوبے کے رہنمائوں کے ساتھ نہیں ہوتا ہے سینیٹر منظور کاکڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ جو وقت گزر چکا ہے اس پر افسوس کرنے کی بجائے ہمیں مستقبل کی فکر کرنی چاہیے انہوںنے کہاکہ اس وقت ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہے عوام کی نظریں اس ایوان پر لگی ہوئی ہیں اگر یہ مہنگائی اسی طرح چلتی رہی اور ہم اپنی لڑائیاں اسی طرح لڑتے رہے تو حالات سنبھالنے سے باہر ہوجائیں گے انہوں نے کہاکہ اس وقت حالات غریب عوام کے بس سے باہر ہوچکے ہیں اگر اپوزیشن بھی اپنی بات اس ایوان میں بیان کرتی تو بہتر ہوتا کیا ہم نے اس ایوان میں نوجوانوں کیلئے کوئی بات کی ہے اگر ہم آج بھی مل کر نہ بیٹھیں تو ملک کی حالت بدل نہیں سکے گی انہوںنے کہاکہ ہم صوبوں کی باتیں کرتے ہیںجب تک ہم مل کر اقدامات نہیں اٹھائیں گے اس وقت تک ترقی کی جانب نہیں جاسکتے ہیں سینیٹر شمیم آفریدی نے کہاکہ اس وقت پاکستان کی پوزیشن یہ ہے کہ ہم دنیا میں اخری نمبر پر ہے اس وقت عوام شام کی روٹی کیلئے محتاج ہے جبکہ حکمران طبقہ عیاشی کر رہا ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں ہر غریب شخص کو آٹے کی فراہمی کیلئے اقدامات کرنے ہونگے اور اگر ہم نہ کرسکے تو نہ آپ ہونگے اور نہ ہم رہیں گے سینیٹر پلوشہ احمد زئی نے کہاکہ اس وقت ملک میں انتشار کی صورتحال ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی صورتحال منفی دکھائی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ لگتا ہے کہ عالمی سطح پر ہمیں کمزور کرنے کیلئے سازشیں کی جارہی ہیں ہمیں اس کا مقابلہ کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ ہم سے جو مطالبات کئے جارہے ہیں وہ لمحہ فکریہ ہے ہم اپنے میزائل پروگرام اور ایٹمی اثاثوں پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور پاکستان کی خاطر تمام ممالک میں جائیں گے انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کی جانب سے جو شرائط عائد کی جارہی ہیں وہ پہلی دفعہ ہے اس طرح پہلے کبھی نہیں ہوا ہے سینیٹر محمد قاسم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے انہوں نے کہاکہ اس وقت جو صورتحال ہے یہ جمہوریت کیلئے سخت نقصان دہ ہے سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہاکہ بدقسمتی سے آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا ہے اس ملک کو فوجی مداخلت نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور ملکی حالات اس طرح خراب نہ ہوتے انہوںنے کہاکہ مشکلات اور پابندیوں کے باوجود ہمارے ساتھیوں نے اپنا کردار بخوبی سرانجام دیا ہے اور ملک کے عوام کو درپیش مسائل بیان کئے ہیں انہوں نے کہاکہ ہماری عدلیہ نے نظریہ ضرورت کے مطابق فیصلے دئیے ہیں یا ان کے بعض فیصلوں پر حیرت کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے ان فیصلوں نے ملک اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے اجلاس کے اخر میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر میاں رضا ربانی نے سینیٹ گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے قراردادیں پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا اس موقع پر چیرمین سینیٹ نے گولڈن جوبلی تقریبات میں شرکت کرنے والے وزیر اعظم پاکستان، گورنر ،وزیر اعلیٰ سندھ ،وزیر اعظم آزاد کشمیر سمیت دیگر اہم حکومتی عہدیداروں غیر ملکی سفرائ ،چیمبر کے عہدیداروں اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔







