لکی مروت : پولیس سٹیشن پر دہشت گردوں کا حملہ، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید

لکی مروت(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے تھانہ صدر پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس ( ڈی ایس پی ) سمیت 4 اہلکار شہید ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے پولیس سٹیشن صدر لکی مروت پر حملہ کیا اور مدد کے لئے پہنچنے والی بکتر بند گاڑی کو بم کے ذریعے نشانہ بنایا، ڈی ایس پی اقبال مہمند سمیت چار اہلکار گاڑی میں سوار تھے جو حملے کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔پولیس حکام نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے جبکہ حملے سے پولیس سٹیشن کا کچھ حصہ منہدم بھی ہوا جس کے باعث چند اہلکار ملبے تلے دب گئے۔ شہید اہلکاروں میں کرامت، وقار،علی مرجان جبکہ زخمیوں میں ہیڈ کانسٹیبل فاروق،کانسٹیبل گلتیاز،اصغر،امانت اللہ،عارف اور سردار علی شامل ہیں۔پولیس نے مزید بتایا کہ حملے میں ملوث تمام دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ادھروفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے لکی مروت میں دہشت گردی واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ پوری قوم شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ دہشت گردی کا پہلے بھی مقابلہ کیا، اب بھی پوری قوت سے اس کا قلع قمع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پولیس جان کی پرواہ کئے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرگرم عمل ہے، حملے میں ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکاروں کی شہادت پر ان کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔خیال رہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے خیبرپختونخوا پولیس ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔30 جنوری کو پیر کے روز پشاور کی پولیس لائنز کی حدود کے اندر ایک مسجد میں دھماکا ہوا جہاں 300 سے 400 افراد، جن میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی تھی، نماز کے لیے جمع تھے۔حملے کے نتیجے میں 84 افراد لقمہ اجل بنے تھے جن میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی تھی۔رواں سال کا پہلا مہینہ جنوری، جولائی 2018 کے بعد ملک کے لیے سب سے ہلاکت خیز مہینہ ثابت ہوا تھا جس کے دوران ملک بھر میں ہوئے 44 حملوں کے نتیجے میں 134 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 254 زخمی ہوئے تھے۔دسمبر کے مقابلے جنوری 2023 کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا میں نہ صرف دہشت گرد حملوں کی تعداد 17 سے بڑھ کر 27 ہوگئی بلکہ اس کے نتیجے میں ہوئی اموات کی تعداد بھی 17 سے بڑھ کر 116 ہوگئی تھی۔اس کے علاوہ صوبے میں 232 افراد زخمی بھی ہوئے جس میں زیادہ تر وہ پولیس اہلکار شامل تھے جو پشاور دھماکے میں گھائل ہوئے۔دوسری جانب بلوچستان کے ضلع کچھی میں ایک موٹر سائیکل دھماکے میں لیویز فورس کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ کچھی ضلع کے دھدر قصبے میں موٹرسائیکل میں نصب دیسی ساختہ دھماکا خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑا دیا گیا۔حکام نے بتایا کہ لیویز تھانے مچھ کے انچارج افسر عبدالمالک دھماکے کے وقت علاقے سے گزر رہے تھے، وہ زخمی ہوئے اور ان کی گاڑی کو بری طرح نقصان پہنچا جبکہ کچھ قریبی دکانوں اور عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں