اسلام آباد (روزنامہ قوم انٹرنیشنل) چیف کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن (ریٹائرڈ) نورالامین مینگل نے اپنی ٹیم کے ہمرا ہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری شہر کی ترقی میں ایک اہم سٹیک ہولڈر ہے لہذا پالیسی سازی میں ان کی آواز شامل کرنے کیلئے چیمبر کے صدر کو سی ڈی اے بورڈ کی میٹنگوں میں بطور ممبر مدعو کیا جائے گا۔ سی ڈی اے کے ممبر فنانس سید مظہر حسین شاہ، ممبر انجینئرنگ سید منور شاہ، ممبر پلاننگ اینڈ ڈیزائن وسیم حیات باجوہ، ممبر اسٹیٹ محمد افنان عالم خان، ممبر انوائرنمنٹ کیپٹن (ریٹائرڈ) انوار الحق، ممبر انسپکشن ریاض رندھاوا، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن اور دیگر اس موقع پر موجود تھے۔چیئرمین نے کہا کہ سی ڈی اے چیمبر کو ایکسپو سنٹر، سکول اور ہسپتال کی تعمیر کیلئے پلاٹ فراہم کرے گی جبکہ چیمبر کو سپورٹس گراؤنڈ بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے تاجر برادری کی سہولت کیلئے بزنس فرینڈلی پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو کمرشل پلاٹ 33،50اور 99سال کی لیز پر دیئے جائیں گے تاکہ ان کو کاروبار کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل بلڈنگ کے نقشوں کو بھی ایک ماہ میں منظور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی تمام مارکیٹوں کو جدید خطوط پر ترقی دی جائے گی تا کہ بزنس کمیونٹی کو کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں سہولت ہو۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں میں پارکنگ کا مسئلہ حل کرنے کیلئے نجی شعبے کے ذریعے6 مزید پارکنگ پلازے تعمیر کئے جائیں گے جن کے پلاٹ 33سال کی لیز پر دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کار شورومز اور ٹرانسپورٹ ٹرمینلز سمیت 9شعبوں کیلئے کمرشلائیزیشن فیس ختم کر دی گئی ہے تا کہ وہ طویل المدت لیز پر پلاٹ خرید کر شورومز، ٹرانسپورٹ ٹرمینل وغیرہ تعمیر کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں صفائی کا نظام بھی ٹھیکے پر دیا جائے گا اور مارکیٹوں میں پبلک ٹوائلٹ نجی شعبے کے ذریعے لیز کے نظام کے تحت تعمیر کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ انسپکٹرز سے اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں اوراب اس سے بہتر نظام لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں تمام میگا پراجیکٹس کو اس سال جولائی تک مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول سیل میں پچھلی تاریخوں میں نوٹس جاری کرنے والے انسپکٹروں کو معطل کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تجاوازات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چیمبر اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لے کر کارروائی کا آغاز کیا جائے گا کیونکہ متعلقہ مارکیٹ ایسوسی ایشن کے بغیر کوئی بھی کارروائی دیرپا نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے چیمبر کیلئے سی ڈی اے کے رابطہ افسران کا بھی اعلان کیا جو سی ڈی اے اور ایم سی آئی سمیت تاجروں کے دیگر مسائل حل کرانے میں تعاون کریں گے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے اپنے خطاب میں چیئرمین سی ڈی اے کو تاجر برادی کے اہم مسائل سے آگاہ کیا جن میں سی ڈی اے بورڈ میں چیمبر کی نمائندگی، ایکسپو سینٹر کی تعمیر، سکول اور ہسپتال کیلئے پلاٹ کی فراہمی، کرکٹ گراؤنڈ کی فراہمی، مارکیٹوں کی جدید خطوط پر ترقی، مارکیٹوں میں سبزی، پھل اور گوشت کی دکانوں کی فراہمی، پارکنگ، سڑکوں، سیوریج، صفائی کے مسائل کی نشاندہی، بلند عمارتوں کیلئے فائر فائیٹنگ نظام کی دستیابی کو یقینی بنانا، مسیحی برادری کیلئے قبرستان کی فراہمی، پچھلی تاریخوں میں بی سی ایس کے نوٹسز کو واپس لینا، چیمبر کی مشاورت سے اسلام آباد میں نئے روٹس پر بسیں چلانا، بارہ کہو بائی پاس پر کام کو تیز کرنا، جائیداد کی فیملی ٹرانسفر کیلئے بی سی ایس کے این او سی کا خاتمہ، انفراسٹرایکچر کے بغیر کمرشل پلاٹوں کی نیلامی سے گریز، ایڈیشنل سٹوری کے چارجز میں کمی اور دیگر شامل تھے۔چیمبر کے سینئر نائب صدر فاد وحید نے آئی نائن اور آئی ٹین انڈسٹریل ایریاز کی سڑکوں کو مزید چوڑا کرنے، مزدوروں کیلئے سستی بسیں چلانے اور صنعتی علاقوں میں چیک پوسٹین قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔چیمبر کے سابق صدر اور یو بی جی کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری نے چیئرمین سی ڈی اے کے طور پر ایک بہترین اور بزنس فرینڈلی شخص کی تعیناتی پر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا شکریہ اداکیا اور مطالبہ کیا کہ چیئرمین سی ڈی اے کی مدت ملازمت کو تین سال کیلئے آئینی تحفظ فراہم کیا جائے تا کہ عوام کے مسائل بہتر حل ہو سکیں۔







