امریکی صدر کا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ، سیز فائر میں توسیع سے انکار

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کے قریب ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران کسی بھی طرح معاہدہ کرنا چاہتا ہے، مداخلت نہ کرتا تو اس وقت ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے، انہیں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

بعدازاں امریکی نشریاتی ادارے ’’اے بی سی‘‘ نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کے بارے میں نہیں سوچ رہا، اس کی ضرورت بھی نہیں ہے، آنے والے 2 دن انتہائی اہم اور غیر معمولی ہوں گے، ایران جنگ کا اختتام کسی بھی صورت میں ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے معاہدہ زیادہ بہتر آپشن ہے، معاہدے کی صورت میں ایران کو دوبارہ تعمیر کا موقع ملے گا، ایران میں اب ایک مختلف نظام قائم ہو چکا ہے، انتہا پسند عناصر کو ختم کر دیا گیا ہے اور وہ اب موجود نہیں، اگر میں صدر نہ ہوتا تو دنیا تباہی کا شکار ہو چکی ہوتی۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد امریکا کیلئے مؤثر ثابت نہیں ہوا، نیٹو نہ ماضی میں امریکا کے ساتھ کھڑا ہوا اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ اگلے مذاکرات بھی پاکستان میں ہونے کا واضح اشارہ دے دیا۔

نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں کہا کہ ایران سے مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں آئندہ 2 روز میں ہو سکتا ہے، امریکی میڈیا کو وہاں ہونا چاہیے، پاکستان کے فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کر رہے ہیں، وہ لاجواب ہیں، اس لئے زیادہ امکان ہے کہ ہم پاکستان چلے جائیں۔

تہران پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے آمادہ

دوسری جانب تہران پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کیلئے آمادہ ہوگیا ہے، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے ایران کی ترجیح پاکستان ہی ہوگا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے بعد ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور وزیر خارجہ دونوں نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تاحال مذاکرات کے وقت کے حوالے سے حتمی معلومات سامنے نہیں آئیں کہ آیا آئندہ دنوں میں کوئی پیش رفت ہوگی یا نہیں۔

تاہم ذرائع کے مطابق اور گردش کرنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکام ایک تکنیکی ٹیم کے ساتھ امریکی نمائندوں سے ملاقات کے لئے تیار ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے۔

دریں اثناء امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی سے پہلے اگر ایران سے ایک اور میٹنگ ہوئی تو اس کی ممکنہ قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس ہی کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وفد میں صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیووٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں