اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بچوں کی مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھنے، ہر بچے کو ایک محفوظ ماحول میں پرورش پانے اور تعلیم حاصل کرنے کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
صدر مملکت کا کہنا ہے کہ بچوں کا تحفظ آئین پاکستان کا حصہ ہے جس میں آئین کا آرٹیکل 11 غلامی، جبری مشقت اور بچوں کو خطرناک نوعیت کے کاموں میں ملازمت دینے کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25-اے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ آئینی دفعات ریاست کی اس ذمہ داری کو واضح کرتی ہیں کہ وہ بچوں کے تحفظ اور تعلیم کے فروغ کو یقینی بنائے، بچوں سے مشقت کے ان کی زندگی اور مستقبل پر براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، محنت مزدوری میں مصروف بچے اکثر تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا تعلیمی لحاظ سے پیچھے رہ جاتے ہیں جس سے ان کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ جبری مشقت سے بچوں کی صلاحیتوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور پہلے سے مشکلات کے شکار خاندانوں پر مزید بوجھ پڑتا ہے، لہٰذا بچوں کی تعلیم کو برقرار رکھنا صرف ان کے تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ طویل المدتی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
پاکستان وفاقی اور صوبائی سطح پر بچوں سے مشقت کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، ہماری توجہ اس مسئلے کی روک تھام، موجودہ قوانین کے مؤثر نفاذ اور ایسے بچوں کی معاونت پر مرکوز ہے جنہیں دوبارہ تعلیم اور ایک محفوظ و مستحکم ماحول کی طرف واپس لانے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر میں والدین، آجرین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھنے اور ان کی تعلیم برقرار رکھنے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔
صدر مملکت نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کا معیار وہاں پر بچوں سے سلوک سے جانچا جاتا ہے، پاکستان کے ہر بچے کو سیکھنے، نشوونما پانے اور ایک محفوظ و روشن مستقبل تعمیر کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ مستقبل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال یہ دن بچوں سے مشقت ناقابل قبول: بچوں کے لیے منصفانہ مواقع، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگارکے عنوان منایا جارہا ہے، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق آج بھی دنیا بھر میں 13 کروڑ 80 لاکھ بچے مشقت کرنے پر مجبور ہیں، جن میں سے تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ بچے خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بچوں سے مشقت و مزدوری کا مکمل سد باب، قومی معاشی اور سماجی ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے ناگزیر ہے، قوموں کی ترقی، مستقبل کی افرادی قوت، بچوں کی ذہنی و جسمانی قدرتی صلاحیتوں کی افزائش اور بہترین استعمال پر منحصر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسی ترجیحات میں باوقار روزگار کے فروغ اور بچوں سے مشقت کے خاتمہ کے لیے عملی اقدامات شامل ہیں، حکومت تمام متعلقہ اکائیوں بشمول آجروں اور محنت کشوں کی تنظیموں کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہی ہے،صوبائی حکومتوں نے بچوں سے مشقت کے تدارک کے لیے نمایاں قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں جو لائق ستائش ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام صوبوں میں جبری مشقت کے قوانین کے تحت ضلعی نگرانی کمیٹیاں، خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں، یہ اقدامات کمزور و محروم بچوں کے تحفظ اور ان کی بحالی و معاونت کے ہمارے قومی عزم کے عکاس ہیں۔







