سب رجسٹرار سٹی اور سرکاری عملے کی مبینہ ملی بھگت ۔ متوفی شخص کی قیمتی پراپرٹی کا جعلسازی سے بیع نامہ تصدیق کروانے کا انکشاف

​متوفی محمد اشفاق کے بیٹے باسط علی نے سب رجسٹرار سٹی محمد سہیل رضوان ، احمر جنید انسپیکٹر ایکسائز، سلیم اللہ وثیقہ نویس، عملہ سہولت سینٹر سٹی اور دیگر کیخلاف اینٹی کرپشن میں درخواست دائر کردی ۔ درخواست گزار کی وزیر اعلی پنجاب سے جعلسازی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی اپیل ۔
تفصیلات کے مطابق
گجرانوالہ سب رجسٹرار سہولت سینٹر سٹی و عملہ کی مبینہ ملی بھگت، فراڈ اور دھوکہ دہی کا ایک بڑا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک سال قبل انتقال کر جانے والے شہری کی قیمتی پراپرٹی کا جعلسازی کے ذریعے بیع نامہ تصدیق کروانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سلسلے میں متاثرہ شہری باسط علی ولد محمد اشفاق نے اینٹی کرپشن حکام کو باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے۔
​درخواست گزار باسط علی کے مطابق، ان کے والد محمد اشفاق ولد محمد عاشق کا انتقال تقریباً ایک سال قبل 12 اگست 2025ء کو ہو چکا تھا۔ تاہم، سب رجسٹرار سٹی گجرانوالہ محمد سہیل رضوان خان، سلیم اللہ وثیقہ نویس، عرفان بشیر، وسیم بشیر، محمد منیب، انسپیکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن احمر جنید، اسامہ اور سہولت سینٹر سٹی کے متعلقہ عملے نے باہم مشاورت اور مبینہ ملی بھگت سے متوفی کی جگہ جعلی اور فرضی کارروائی کرتے ہوئے پراپرٹی نمبر BIX-15S-20/RH (رقبہ 2-1/4 سوا دو مرلہ) کا بیع نامہ نمبر 098-2026-0006058 بتاریخ 20 اپریل 2026ء کو تصدیق کروا دیا۔
​جبکہ درخواست گزار کے والد نے اپنی زندگی میں وسیم بشیر کے ساتھ اپنے کل رقبہ تعدادی 8 مرلہ 141 فٹ کا معاہدہ 6 کروڑ 10 لاکھ روپے میں کیا تھا، جس میں سے 2 کروڑ 52 لاکھ روپے وصول پائے گئے تھے اور بقایا 3 کروڑ 58 لاکھ روپے کی ادائیگی کی تاریخ 24 جون 2023ء مقرر کی گئی تھی۔ تاہم وسیم بشیر نے مقررہ تاریخ تک بقایا رقم ادا نہیں کی۔ والد کے انتقال (12 اگست 2025ء) کے بعد وسیم بشیر نے 9 اکتوبر 2025ء کو تعمیلِ مختص کا دعویٰ دیوانی عدالت میں دائر کیا، اور بعد میں درخواستِ بے دخلی کے جواب میں 20 اپریل 2026ء کا تصدیق شدہ جعلی بیع نامہ پیش کیا درخواست میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ نامزد ملزمان نے تمام کمرشل پراپرٹیز کو رہائشی ظاہر کر کے بیع نامے تصدیق کروایے، جس سے قومی خزانے کو بھی لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔درخواست میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 20 اپریل 2026 کو تصدیق کیا گیا بیع نامہ ریکارڈ کے مطابق 2-1/4 مرلہ تھا، جبکہ جعلی بیع نامے میں اسے 3 مرلہ 193 فٹ تحریر کر کے ہیر پھیر کی گئی۔
​ درخواست گزار کے مطابق 24 اگست 2024ء کو ان کے والد نے صرف 3 بیع نامہ جات کے بارے میں بیان قلمبند کروایا تھا، جبکہ متنازعہ بیع نامہ BIX-15S-20/RH کا بیان کبھی قلمبند نہیں کروایا گیا۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ متوفی کے وارثان اوورسیز پاکستانی ہیں، جو دیارِ غیر میں مقیم ہونے کے باعث اس منظم جعل سازی کا شکار بنے ہیں۔ بااثر ملزمان نے ان کی عدم موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور جعلی کارروائی انجام دی۔
​درخواست گزار باسط علی نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن گجرانوالہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ سب رجسٹرار سٹی، انسپیکٹر ایکسائز، وثیقہ نویسوں اور عملہ سہولت سینٹر سٹی سمیت تمام نامزد ملزمان کے خلاف جعلی، فرضی اور دھوکہ دہی پر مبنی بیع نامہ تیار کرنے پر مقدمہ درج کر کے فوری و سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں