صحافتی یونینز کے اتحاد اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے دستور کے زیراہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سینئر اور مرحوم صحافیوں کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں صحافتی تنظیموں کے اتحاد، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، فلاح و بہبود اور مرحوم صحافیوں کے اہلِ خانہ کی معاونت کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے تمام یونینز کو اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا، کیونکہ تقسیم شدہ آواز صحافتی برادری کو کمزور کرتی ہے، حافظ طاہر خلیل نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے آزادی اظہار رائے کیلئے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اظہار رائے پر پابندی کے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم انکی وفات کے ایک ہفتے کے اندر اندر اس ایکٹ کو نافذ کر دیا گیا تھا، انہوں نے نثار عثمانی، حافظ عبدالخالق، سی آر شمسی ، فرخ سعید خواجہ، ناصر بخاری، عدیل سرور، راجہ حنیف،مظہر شیخ سمیت دیگر سینئر صحافیوں کی صحافت کیلئے خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،ریفرنس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر حاجی نواز رضا، نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، حافظ طاہر خلیل، ڈاکٹر سعدیہ کمال، طارق عثمانی، آر آئی یو جے دستور کے صدر رانا کوثر علی، جوائنٹ سیکرٹری چوہدری جاوید بھاگٹ، این این آئی کے چیف ایڈیٹر عمار یاسر، حافظ عبدالماجد، سلطان احمد شیخ،ڈاکٹر عبدالودود قریشی ،صدیق انظر، طارق ندیم، سمیت دیگر صحافیوں نے شرکت کی اور مرحوم صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات، جدوجہد اور صحافتی برادری کے لیے ان کی قربانیوں کو یاد کیا۔حاجی نواز رضا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مرحوم صحافیوں کی خدمات کو یاد رکھنے، ان کے اہلِ خانہ کی معاونت، سینئر صحافیوں کی پذیرائی اور صحافتی برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صحافیوں کا اتحاد ہی ان کے حقوق کے مؤثر تحفظ اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافتی یونینز کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ صحافیوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں اور یونینز اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب صحافتی برادری کے مسائل کے حل اور مرحوم صحافیوں کی خدمات کو یاد رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ڈاکٹر سعدیہ کمال نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافتی برادری کو مرحوم صحافیوں کی خدمات کو محض یاد کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ جدوجہد اور خدمات کا اعتراف عملی اقدامات کے ذریعے بھی کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر صحافیوں، صاحبِ کتاب صحافیوں اور صحافت کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی کے لیے باقاعدہ ایوارڈز کا اہتمام کیا جائے۔ اس کے علاوہ مرحوم صحافیوں کے بچوں اور اہلِ خانہ کی مالی معاونت کے لیے ویلفیئر فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔انہوں نے کہا کہ صحافتی تنظیموں کو متحد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صحافیوں کے حقوق، روزگار کے تحفظ اور دیگر مسائل پر مؤثر آواز اٹھائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافتی قیادت سے احتساب اور جواب دہی کا مطالبہ ضرور ہونا چاہیے، تاہم ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا ہوگا۔سینئر صحافی طارق عثمانی نے اپنے خطاب میں صحافتی تنظیموں کے درمیان تقسیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام یونینز اپنی علیحدہ سرگرمیوں اور اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ ایکشن کمیٹی تشکیل دیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق، برطرف ملازمین کی بحالی اور دیگر پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ محض احتجاج، تقاریر اور مذمتی بیانات کافی نہیں، بلکہ ان کے نتیجے میں عملی پیش رفت بھی ہونی چاہیے۔رانا کوثر علی نے کہا کہ مرحوم صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مشن کو آگے بڑھانا اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے۔ صحافتی برادری کو دکھاوے اور ذاتی مفادات کی سیاست سے نکل کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔مقررین نے تعزیتی ریفرنس کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہتےہوئے کہا کہ صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرے میں ناانصافی، عدم مساوات اور عوامی مسائل کے خلاف آواز بلند کرنے کا نام ہے۔ مرحوم صحافیوں کی جدوجہد کو آگے بڑھانا زندہ صحافیوں کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے باہمی اتحاد، عملی تعاون اور اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہے۔







