قومی اسمبلی اجلاس: الیکشن اخراجات بل منظور نہ ہو سکا

اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن اخراجات سے متعلق بل 2023 ایوان میں پیش کردیاجو منظور نہ سکا،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے الیکشن اخراجات بل قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھجوا دیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات دن دو بجے تک ملتوی کردیاجبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پونے چار سال میں ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا،ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا ہم نے سیاست کے بجائے ریاست کو بچایا،موجود معاشی صورتحال پی ٹی آئی کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے، سازشی عناصر ذاتی مفاد کی خاطر ملک کو نقصان کو پہنچا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں اسمبلی اجلاس میں معمول کی کارروائی کا ایجنڈا معطل کر دیا گیا۔اس موقع پر نیشنل یونیورسٹی پاکستان کے قیام کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے الیکشن اخراجات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آنافانا منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش بچھا دی گئی، کامیاب حکومت کی معاشی پالیسیوں کو نقصان پہنچایاگیا۔سلیکٹڈ حکومت کو نکالا گیا تو ہمیں تباہ شدہ معیشت ملی، پی ٹی آئی کی پوری کوشش ہے ملک دیوالیہ ہوجائے، میرے غیر ملکی دورے پر شکوک و شبہات پھیلائیگئے، پی ٹی آئی قیادت کوشش کررہی ہے ملک میں انتشار پھیلے، یہ لوگ ملک دشمنی پر اتر آئے ہیں اور کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ واحد حکومت تھی جس نے 2013 سے 2016 پروگرام کو مکمل کیا،پی ٹی آئی نے ناصرف قوی ایم ایف کے ۔عقیدے پر عمل نہیں کیا بلکہ اسکی خلاف ورزی کی اس اقدام سے ملک کی ساکھ مجروح ہوئی,ہم نے سخت فیصلے کیے ورنہ ملک دیوالیہ ہو جاتا،ہم نے ان اقدامات کا سیاسی نقصان اٹھایااب ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانا ہے,ہم نے ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول ایگریمنٹ جلد سائن ہو جائے گا،آج کی خراب معاشی صورتحال کی ذمہ دار صرف اور صرف پی ٹی آئی کی حکومت ہے،سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے 16 ارب ڈالر کی ضرورت ہے،خوراک کی قیمت میں 14 اعشاریہ 3۔ فیصد اضافہ ہو چکا،حکومت عوام کو ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے،حکومت پاکستان کھانے پینے کی اشیا پر 23 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے.وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمارے اقدمات کے سبب کرنٹ اکاونٹ خسارے میں 70فیصد کمی ہوئی ہے،موجودہ مخلوط حکومت کے مشکل فیصلوں سے ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا ،زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،عمران نیازی کے 4سالوں میں گردشی قرضہ میں 1319 ارب کا اضافہ ہوا،عمران نیازی نے 4سال میں بیرونی قرضے میں 76 فیصد اضافہ کیا،ہم نے ایک سال میں 12 ارب ڈالر کے قرضے واپس کیے ہیں،زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب 60کروڑ ڈالر ہیں،حکومت نے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کیے ہیں،جس سے معاشی بحالی میں مدد ملے گی،مالیاتی نظم و ضبط کے لیے اخراجات میں کمی کر رہے ہیں،کابینہ نے اس ایوان کی سپریم کورٹ کے حوالے سے منظور شدہ قرارداد کی روشنی میں الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کیا ہے،اب اس ایوان کو فیصلہ کرنا ہے کہ یہ رقم الیکشن کمیشن کو فراہم کی جائے یا نہیں۔اجلاس میں محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ میں اسمبلی میں اپنے حلقے کی نمائندگی کر رہا ہوں،کاش کچھ لوگ پاکستان کا آئین پڑھ لیتے کہ پاکستان کے فیصلے پاکستانی عوام کے منتخب نمائندے کریں گے،ہم پاکستان کے آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حمزہ شہباز شریف کے کیس میں آئین کو ری رائٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے،اس ایوان کے نمائندے ہی قانون سازی کریں گے اگر کوئی اور اس حوالے سے فیصلے کریں گے تو مسائل ہی پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے بینچ بنائے جارہے ہیں اور ججوں کے فیصلوں کو تبدیل کر دیا جاتا ہے،مرضی کے بینچ بنائے جا رہے ہیں۔رکن اسمبلی احمد حسن دیہڑ نے کہا کہ فخر الدین ابراہیم نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا،ایسے حالات میں الیکشن صاف شفاف نہیں ہو سکتے ہیں،آج صورتحال یہ ہے کہ 11سال حکومت کرنے والے ایک ڈکٹیٹر کا بیٹا فوری الیکشن کروانے کی بات کر رہا ہے،اجلاس میں سینیٹ سے منظور کردہ نیشنل یونیورسٹی پاکستان بل 2023 اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔بل وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے پیش کیا ۔اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ معیشت تباہی کے دہانے پر تھی، ہمارے پیش رو نے معیشت کو تباہ و برباد کردیا، ہمارا پہلا چیلنج ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا تھا اور اگلا مرحلہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے، اب ہم معاشی استحکام سے ترقی کی طرف چل پڑے ہیں ، کوشش ہے پاکستان کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ہمارا پہلا چیلنج ملک کو ڈیفلاٹ سے بچانا تھا،اگلا مرحلہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے،سازشی عناصر اب بھی ملک کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں،جب ملک کو دیوالیہ نہیں کر سکے تو انھوں نے ملک میں آئینی بحران پیدا کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں