اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) پاکستان تحریک انصاف کی باقی قیادت کے برعکس شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بطوروزیر خارجہ بلاول بھٹو کے دورہ بھارت میں کوئی حرج نہیں،شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم فورم ہے، ایس سی او کو اپنے خطے کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کے غلط رویے کے باوجود ہم نے لچک دکھائی۔حکومتی وفد سے ہونے والی تین ملاقاتوں کا نچوڑ تحریری طور پر چیف جسٹس کو دے دیا۔ہم نے پوری کوشش کی کہ چیزیں کسی نتیجے پر پہنچیں۔ہم نے وفاقی وزراء کے بیانات، خواجہ آصف کے رویے، گرفتاریوں اور گھر پر دھاوا بولنے کے باوجود مذاکرات جاری رکھے، حکومت کی صفوں میں یکسوئی نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمٰن چاہتے ہی نہیں ہیں کہ مذاکرات ہوں۔پی ٹی آئی چاہتی ہے ملک کو موجودہ بحران سے نکالے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے، الیکشن میں تاخیر سے ملک کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی۔سابق وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ کے دورہ بھارت سے متعلق کہا کہ بلاول بھٹو کے بھارت جانے میں کوئی حرج نہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم فورم ہے، پاکستان کی جانب سے اجلاس میں شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔خیال رہے کہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے جمعرات کو کراچی سے بھارت گئے۔دفتر خارجہ کے مطابق وزیرخارجہ بھارت کے شہر گوا میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ ایس سی او کے وزرائے خارجہ کی کونسل میں شرکت کی دعوت انہیں بھارتی وزیرخارجہ نے دی ہے جو ایس سی او کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے موجود ہ سربراہ ہیں۔وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا پاکستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔







