پاکستان اپنی متعدد مصنوعات ایتھوپیا کو برآمد کر سکتا ہے:احسن بختاوری

اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایتھوپیا کے اعلیٰ سطحی وفد کے دورہ پاکستان کے موقع پر اپنے آڈیٹوریم میں پاکستان ایتھوپیا بزنس فورم کا انعقاد کیا۔ وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر اور ایتھوپیا کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور مسگانو آریگا مہمان خصوصی تھے۔ ایتھوپیا کی وزیر مملکت برائے انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی محترمہ فوزیہ امین اور دیگر معززین بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا کہ پاکستان تجارت و برآمدات کیلئے افریقہ کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس سلسلے میں ایتھوپیا کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے کیونکہ ماضی میں افریقہ کو نظرانداز کیا گیا جو ایک بڑی غلطی تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے ایک پرکشش مارکیٹ ہے لہذا ایتھوپیا کا تجارتی وفد پاکستان میں جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی لوک افریقہ پالیسی کے تحت پورے افریقی خطے کے ساتھ کاروباری تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بارٹر ٹریڈ پالیسی کا اجراء کرنے جا رہا ہے لہذا ایتھوپیا کی بزنس کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ اس پالیسی کے تحت پاکستان کے ساتھ تجارت کو بہتر بنانے کی کوشش کرے کیونکہ اس میں زرمبادلہ کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کاروباری معاہدوں کو حتمی شکل دینے پر توجہ دیں جس سے دونوں کی باہمی تجارت بہتر ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے سفارتخانے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے آسان بزنس ویزا پالیسی پر توجہ دیں۔

ایتھوپیا کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور مسگانو آریگا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایتھوپیا پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کو فروغ دینے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا افریقہ میں ایک تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور اس نے ایک10 سالہ اقتصادی ترقی کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی سرمایہ کار ایتھوپیا میں سرمایہ کاری پر توجہ دیں کیونکہ ان کا ملک غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا کی ایئر لائن نے پاکستان کے ساتھ براہ راست پروازیں شروع کر دی ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اور عوامی تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا کے وفد نے پاکستان کو تجارتی اور پیداواری سرگرمیوں کے لیے ایک بہترین ملک پایا ہے اور ان کی شاندار مہمان نوازی کرنے پر حکومت پاکستان اور چیمبر کا شکریہ ادا کیا۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان دو طرفہ تجارت 10کروڑ ڈالر سے بھی کم ہے جس کو بہتر بنانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایتھوپیا کو اپنی بہت سی مصنوعات برآمد کر سکتا ہے جس میں ٹیکسٹائل، چاول، فارماسیوٹیکل، کیمیکل، جراحی اور طبی آلات، کھیلوں کا سامان اور تعمیراتی میٹریل شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان ایتھوپیا سے بہت سی کھانے پینے کی اشیاء درآمد کر سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلوں سے پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان باہمی تعاون کی بہت سی نئی راہیں کھلیں گی۔

پاکستان میں تعینات ایتھوپیا کے سفیر جمال بکر عبد اللہ نے اپنے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔

آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر فاد وحید نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ایتھوپییا صنعتی شعبے سمیت دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو مزید قریب لانے کر ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

آئی سی سی آئی کے نائب صدر انجینئر اظہر الاسلام ظفر نے ایتھوپیا کے وفد کو پاکستان میں رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقعوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ پاکستان میں اس شعبے میں سرمایہ کاری کر کے منافع بخش نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

چیمبر کے گروپ لیڈر خالد اقبال ملک نے وفد کو پاکستان کے آم اور دیگر فروٹس کی برآمدی صلاحیت کے علاوہ ماربل، کوئلہ اور سیاحت سمیت پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے مواقعوں سے آگاہ کیا۔

چیمبر کے سابق صدر اور یو بی جی کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری نے کہا کہ ایتھوپیا آبادی کے لحاظ سے افریقہ کا دوسرا بڑا اور معاشی طاقت کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ہے اور ایتھوپیا کی ایئرلائن دنیا کی دوسری بڑی ایئر لائن ہے لہذا پاکستان ایتھوپیا کے ساتھ کاروباری تعلقات بہتر کر کے فائدہ مند نتائج حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان میں ایتھوپیا کے اعزازی قونصل جنرل ابراہیم خالد تواب نے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں