راولپنڈی(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)جی ایچ کیو راولپنڈی پر حملے میں ملوث شر پسندوں کی بھی شناخت ہو گئی ،تحقیقات کا عمل مزید تیز کردیا گیا،گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔تفصیلات کےمطابق9 مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے کئے گئے، اس دوران سرکاری املاک بالخصوص فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ 9 مئی اور اس کے بعد پُرتشدد کاروائیوں میں ملوث شرپسندوں کی شناخت اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہیں، جناح ہاؤس لاہور کے بعد اب جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملوث شر پسندوں کی بھی شناخت ہوگئی ہے۔جی ایچ کیو راولپنڈی پر حملہ کرنے والوں کی شناخت حماد خان، افشاں کامران، فاطمہ احسان، شبانہ فیاض، عابد ملک،عاصم خورشید، زاہد علی شاہ، کاشف خان، منیزا احمد، جہانگیر احمد، محمدعثمان، ابوبکر، پیرزادہ شہباز ناصر اور انصر جاوید کے نام سے ہوئی ہے۔چارخواتین سمیت 14 حملہ آوروں کی تصاویر بھی جاری کردی گئی ہیں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے املاک کو نقصان پہنچانے اور فساد کرنے والوں کے گرد قانون کا گھیرا تنگ کردیا ہے اور چھاپہ مار ٹیمیں ملزمان کی گرفتار کیلئے سرگرم ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نگراں وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی زیرصدارت امن وامان کی صورتحال پر اجلاس ہوا، جس میں جناح ہاؤس، عسکری و سول تنصیبات میں توڑپھوڑ اور جلاؤ گھیراؤکی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جے آئی ٹی واقعات کی تحقیقات کرکے جامع رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔اجلاس میں تمام شرپسندوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے کارروائیاں مزید تیز کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا کہ توڑ پھوڑ والے تمام مقامات کی جیو فینسنگ کرائی جائے گی، شرپسندوں کے خلاف تمام کیس انسدادہشت گردی کی عدالت میں چلائے جائیں گے، کسی گناہ گار کو چھوڑیں گے نہیں اوربے گناہ کوپکڑیں گے نہیں، شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ ہرشرپسندکو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ عسکری و سول املاک پر حملہ کرنے والے عناصر عبرتناک سزا سے نہیں بچ پائیں گے، شرپسندوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پنائی ہے، صورتحال میں بہتری آرہی ہے، عوام کےجان ومال کےتحفظ کویقینی بنائیں گے، شرپسند عناصرکے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری فورس الرٹ ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے جناح ہاؤس پر حملہ کرنے والے افراد کو 72 گھنٹے میں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا، جب کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ 9 مئی کو ہنگامہ آرائی کے منصوبہ سازوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ اب تنصیبات پر حملوں اور توڑ پھوڑ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔







