عمران ریاض کیس،عدالت نے وزارت داخلہ کی رپورٹ کوغیر تسلی بخش قرار دیدیا

لاہور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)لاہورہائیکورٹ میں چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے سینئر اینکر پرسن عمران ریاض کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔عدالت نے ڈی جی لیگل سے آئی جی پنجاب کی غیر حاضری کی بابت شیڈول طلب کرلیا۔عدالت نے شیڈول کے ہمراہ حلف نامہ بھی جمع کرانے کے احکامات دیے۔ عدالت نے حکم دیا کہ بتایا جاے کہ کیس کی سماعت میں آی جی کس کے حکم سے غیر حاضر ہے اور آی جی کی جگہ کوی اور افسر کس کے حکم پر پیش ہوا۔ آی جی پنجاب کی کیس سے عدم حاضری کے باعث ڈی آی جی لیگل عمران کشور پیش ہوے۔ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے وزیر اعظم اور وزیراعلی سمیت چار لوگوں کو فریق مقدمہ بنانے کی درخواست جمع کرا دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت سماعت کو سیاسی نہیں بنانا چاہتی۔ اگر کیس کو سیاسی بنانا ہے تو میں سماعت نہیں کرسکوں گا۔ آپ کی درخواست سے پہلے ہی ان وزارتوں کو تعاون کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ کیس کو آگے چلنے دیں۔ میرا اولین فرض یہ ہے کہ اس کی زندگی کے تحفظ کو یقینی بناسکوں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آی جی کہاں ہیعدالت میں پیش کیوں نہیں ہوے؟ عمران کشور نے بتایا کہ وہ تکریم شہدا تقریب میں شمولیت کے لے گوجرانوالہ موجود ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ان کی جگہ کون پیش ہو رہا ہے اور کس کی اجازت سے پیش ہوا؟ شیڈول کس نے جاری کیا؟ دیگر وزات دفاع او وزارت داخلہ کے لوگ کیوں پیش نہیں ہوے؟ وزارت دفاع کی جانب سے رپورٹ پیش کی گی۔ جسے عدالت نے غیرتسلی بخش قرار دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کی جانب سے کوئی تعاون نظر نہیں آرہا ہے۔ پولیس نے ایجنسیز سے مل کر ابھی تک جو کاوشیں کی ہیں ان کی تحریری رپورٹ پیش کریں۔ ایک شہری غاب ہے اور آپ کچھ بتا نہیں رہے۔ عدالت نے یہ تو کبھی نہیں کہا کہ کس ایجنسی کے پاس ہے۔ عدالت نے تمام ایجنسیز کو مل کر ان کو بازیاب کرنے کے احکامات دیے۔ آپ بات کو کیوں سمجھ ہی نہیں پا رہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اگر ملکی ایجنسیوں کو نہیں پتہ تو کیا ملک سے باہر چلا گیا ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم پہلے صحت مند ہوتے مگر لوگوں کے مسال سن سن کر بیمار ہو جاتے ہیں۔ میری اولین ترجیح ان کی بازیابی اور ان کی زندگی کا تحفظ ہے۔ وکیل درخواست گزار نے جوائنٹ کمیٹی بنانے کی استدعا کی۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی ضرور بنی ہو گی۔ عدالت نیعمران ریاض کے والد کو دو وکلا سمیت انویسٹی گیشن کمیٹی سے ملاقات کی ہدایات جاری کر دیں۔ جب مجھے اندازہ ہوا کہ حکومت کچھ نہیں کرنا چاہتی تو ان کے خلاف کارروای ہوگی۔ عمران ریاض کے والد نے عدالت میں موقف اپنایا کہ عمران ریاض نے آی جی کے متعلق وی لاگ کیا جس کا بغض ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہے کہ ہم نے دوسروں کے بارے وی لاگ کرنے کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔ عدالت نیسماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں