لاہور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نےکہا ہے کہ احسن اقبال پر نارووال اسپورٹس کمپلیکس کا جھوٹا کیس بنا لیکن کسی جج نے انہیں’’ گڈ ٹو سی یو‘‘ نہیں کہا۔مذاکرات سیاسی قوتوں کے ساتھ کیے جاتے ہیں انتشار پھیلانے والوں سے نہیں۔ تفصیلات کے مطابق رہنما مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز نے میڈیا سے گفتگو میں تحریک انصاف کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ میں قوم کے 60 ارب کا غبن کیا گیا،60 ارب غن کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔پی ٹی آئی والے کے احتساب کی باری آئی تو جھوٹ کا چورن بیچا گیا،سب سے زیادہ اندھے سیاسی انتقام کا نشانہ ن لیگ بنی ہے۔ ہماری جماعت کے سب لوگوں کو گرفتار کیا گیا،ہم شادیانے نہیں بجا رہے مگر پی ٹی آئی کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ مکافاتِ عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ جناح ہاؤس جلانے اور شہدا کی یادگاروں کی حرمت پامال کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے،ہم نے میثاقِ معیشت کی بات کی تو چور،ڈاکو کے نعرے لگائے گئے۔کسی کی محبت اور پیار میں عدلیہ نے آئین کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کی،جھوٹ اور انتشار سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔ حمزہ شہباز نے بتایا کہ جب پارٹی فیصلہ کرے گی تو نواز شریف ضرور وطن واپس آئیں گے۔ قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ نے کہا کہ 9 مئی کو بغاوت کی گئی،کیا انہیں معلوم نہیں کہ فوج کے خلاف بغاوت کی سزا کیا ہوتی ہے؟۔عزت دار لوگ گرفتاری دے دیتے ہیں تاکہ ان کے گھروں پر چھاپے نہ پڑیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر اسٹیبلشمنٹ،سیاستدان اور عوام ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو جس دن متبادل پارٹی مل گئی تو وہ پی ٹی آئی چھوڑ دیں گے،شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کے بعد مجھے کہا تھا کہ وہ ن لیگ شامل ہونا چاہتے ہیں۔







