لاہور(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) وکیل قتل کیس،عمران خان کی 3 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی گئی جبکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے ذاتی حیثیت میں26جون کو کوئٹہ طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں وکیل کے قتل سے متعلق درج مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 3 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق کے قتل کیس میں تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ جے آئی ٹی نے چئیرمین پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کو 26 جون کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے کے لیے کوئٹہ طلب کیا گیا۔ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے اس ضمن میں عمران خان کو نوٹس بھی بھیج دیا تھا۔نوٹس میں چئیرمین پی ٹی آئی کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 160 کے تحت جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے دفاع میں بیان ریکارڈ کرانے کا کہا گیا۔جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی۔ بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی۔ درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ شہید جمیل کاکڑ تھانے میں درج کیا گیا۔ مقتول کے بیٹے کی مدعیت میں چیئرمین پی ٹی آئی اور دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا،ایف آئی آر میں قتل اور انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات شامل کی گئیں۔







