پشاور،بہاولپور،پاکپتن(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) ملک بھر میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں، تین افراد جاں بحق اور متعد زخمی ہو گئے ، جبکہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے لگا، ہیڈسلیمانکی، لالہ امرسنگ اور بھونڈی کے قریب حفاظتی بند ٹوٹنے سے فصلیں تباہ اور کئی دیہات متاثر ہوئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ضلع خیبر اور ملحقہ علاقوں میں بارشوں کے بعد نالوں میں شدید طغیانی ہے، جبکہ تیز ہوا کے باعث درخت اور بجلی کے کھمبے گرگئے جس سے بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی۔پشاور میں بھی موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، پانی گھروں میں داخل ہونے کی وجہ سے شہری اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب راولپنڈی میں موسلادھار بارش کے بعد رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔پنجاب میں بارش کے باعث چھتیں گرنے کے مختلف واقعات میں ایک مزدور جاں بحق جبکہ پانچ زخمی ہوگئے ۔پنجاب کے شہر فیصل آباد میں جڑانوالہ روڈ پر بارش کے باعث پاور لومز فیکٹری کی چھت گرگئی، چھت کے ملبے تلے دب کر ایک مزدور جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوگئے ۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی اور لاش و زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا۔ایک اور واقعہ اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد میں پیش آیا جہاں نواحی گاؤں 12ون اے ایل میں بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں دولڑکیوں سمیت تین بچے ملبے تلے دب کر زخمی ہوگئے۔ریسکیو1122اور اہل دیہہ نے ملبے سے نکال کر زخمی بچوں کو ہسپتال منتقل کردیا۔ادھردریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے لگا، ہیڈسلیمانکی، لالہ امرسنگ اور بھونڈی کے قریب حفاظتی بند ٹوٹنے سے فصلیں تباہ اور کئی دیہات متاثر ہوئے ہیں۔دریائے ستلج میں سلیمانکی ہیڈ سے 81071 کیوسک پانی کا گزرنے والا ریلا عارف والا کی حدود میں داخل ہوگیا، بلاڑی قصوریہ اراضی دلاور کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہو کر 16 فٹ تک پہنچ چکی ہے، بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ ہو چکی، دریا کنارے قریبی بستیوں سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔پاکپتن کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں تیزی کے باعث دریا کی بلٹ میں ہزاروں ایکٹر پر دھان، مکئی، کپاس اور چارہ کی فصلوں میں سیلابی پانی داخل ہونے سے فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، دیہاتیوں کے بنائے عارضی بند بھی سیلابی پانی نے توڑ دیئے جس کے بعد کئی آبادیوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے، ریسکیو ٹیمیں مکینوں کو ریلیف کیمپوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔بہاولنگر میں بھی بھوکاں پتن کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، دریائے ستلج کے سیلابی ریلے سے تین تحصیلیں بہاولنگر، منچن آباد اور چشتیاں بری طرح متاثر ہوئے، پانی کے تیز بہاؤ سے کٹاؤ کا عمل بھی جاری ہے، ہیڈ سلیمانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کی 73000کیوسک سے زائد کا ریلا گزر رہا ہے۔بہاولنگر میں دریائی بیلٹ سے ملحقہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر فصلیں اور ڈیرے ڈوب گئے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے تمام اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا، علاقہ مکین محفوظ مقامات پر منتقلی کے لئے مجبور ہو چکے ہیں۔ادھر منچن آباد میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی سطح مزید بلند ہوگئی، پانی کے بہاؤ میں اضافے سے گاؤں بھونڈی اور وزیرا گدھوکا کے قریب بنائے گئے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، بند ٹوٹنے سے درجنوں آبادیاں اور فصلیں زیر آب آ گئیں، لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق پانی میں گھرے افراد اور جانوروں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے، اب تک دو سو سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے، مزید ریسکیو کا عمل جاری ہے۔دوسری جانب دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح مزید کم ہو کر ساڑھے 15 فٹ رہ گئی، ہیڈ گنڈا سنگھ والا سے پانی کا اخراج کم ہو کر 20 ہزار کیوسک رہ گیا۔ڈپٹی کمشنر قصور کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کی ہر ممکن امداد جاری ہے، سیلاب کے متاثرین کو دو وقت کا کھانا اور کشتیوں کے ذریعے دریا پار کرایا جا رہا ہے۔







