میڈیا قانون میں ترمیم کیلئے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی، وفاقی وزیراطلاعات

اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ میڈیا ریگولیشن قانون میں ترمیم کےلیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی اور ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن میں فرق وضع کردیا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ صحافیوں کی تنخواہ کو حکومتی اشتہارات سے منسلک کردیا گیا ہے ۔ ادارے بقایاجات دو ماہ میں ادا کرنے کے پابند ہوں گے، صحافیوں کی تنخواہ کوحکومتی اشتہارات سے منسلک کردیا مگر کچھ لوگوں کوتکلیف ہے یہ قانون کیوں بن گیا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صحافی کی تعریف میں تمام میڈیا ورکر کو شامل کیا گیا،نئےقانون کے تحت شکایات پر3 رکنی بینچ فیصلہ کرے گا۔

دوسری جانب پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پیمرا ایکٹ میں ترامیم اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کی گئی ہے۔ یہ ترامیم ورکرز کے حقوق کیلئے ضروری تھیں۔

اعلامیے کے مطابق پیمرا ایکٹ میں اس بات کو یقینی بنانا کہ ملازمین کو ان کے واجبات وقت پر اور ملکی قوانین کے تحت ادا کیے جاسکیں۔ الیکٹرانک میڈیا انڈسٹری کی بقا اور فیک نیوز سے نمٹنے کیلئے کچھ ترامیم ضروری تھیں۔ پی بی اے نے وزیراطلاعات کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں