جمعیت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس، گدھے کے گوشت کی فروخت کے خلاف اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی کارروائی کا خیرمقدم، سلاٹر ہاؤس کی تعمیر کا مطالبہ

اسلام آباد: جمعیت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس ۔گدھے کے گوشت کی فروخت کے خلاف اسلام اباد فوڈ اٹھارٹی کی کاروائی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسلام آباد میں سلاٹر ہائوس کی تعمیر ناگزیر ہے۔صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر داخلہ پاکستان نوٹس لیں۔ خورشید احمد قریشی صدر آل پاکستان جمیعت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن خورشید احمد قریشی کی زیر صدارت جمیعت القریش میٹ ویلفیئر اسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس مرکزی دفتر جمعیت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن آبپارہ مارکیٹ اسلام اباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سینیئر نائب صدر جمیعت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن جاوید قریشی جنرل سیکرٹری جمعیت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن سردار ظہیر احمد نائب صدر جمیعت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن زاہد مسعود خان۔سیکرٹری اطلاعت و نشریات اقبال قریشی نے شرکت کی۔صدرآل پاکستان جمیت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن خورشید احمد قریشی نے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اباد میں گدھے کے گوشت کی فروخت کے خلاف اسلام اباد فوڈ اٹھارٹی کی کاروائی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمیعت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن گزشتہ تین دہائیوں سے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے شہر میں حکومت کے زیر انتظام ایک سلاٹر ہاؤس کے لیے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ غیر ملکی کالی بھڑیں ہیں جو اسلام اباد میں حرام گوشت کا کاروبار کر رہے ہیں ان کے خلاف سخت ترین قانونی کروائی کی جائے انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام اباد میں جدید ذبح خانے کی عدم موجودگی کے باعث گوشت میں ملاوٹ اور اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب اصف علی زرداری وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد شہباز شریف وزیر داخلہ اسلامی جمہوریہ پاکستان محسن نقوی اس چیز کا نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ i 11-4 میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق جدید سلاٹر ہاؤس قائم کیا جائے۔i 11-4 میں بننے والے سلاٹر ہاؤس میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور جلد از جلد سلاٹر ہاؤس کا کام شروع کیا جائے ۔گوشت میں ملاوٹ اور اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت ضابطے اور نگرانی کے طریقہ کار کو نافذ کریں غیر صحت بخش گوشت کی فروخت میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں