اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)چیئرمین نیب آفتا ب سلطان نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ۔ذرائع کے مطابق آفتاب سلطان پر گزشتہ کئی دنوں سے شدید سیاسی دبائو تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے وزیراعظم سے ملاقات میں کہا کہ وہ اس ماحول میں کام نہیں کرسکتے۔ذرائع کے مطابق آفتاب سلطان نے کسی کی خواہش پر کام کرنے سے انکار کردیا تھا، وہ نہیں چاہتے تھےکہ وہ سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی طرح کا کردار ادا کریں۔ذرائع کے مطابق آفتاب سلطان پر کچھ گرفتاریوں کےلیے دباؤ تھا لیکن انہوں نےگرفتاریوں سے انکار کر دیا۔ چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا تعلق پولیس سروس پاکستان سے ہے اور وہ گریڈ 22 کے آفیسر ہیں، آفتاب سلطان ڈی جی آئی بی سمیت دیگر اہم عہدوں پر بھی تعینات رہے۔ آفتاب سلطان نے جاوید اقبال کی ریٹائرمنٹ کے بعد جولائی 2022 کو نیب کی سربراہی سنبھالی تھی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے کہا کہ میں نے کچھ دن پہلے استعفا دیا تھا اور مجھے کچھ چیزوں کے بارے میں کہا گیا جو مجھے قبول نہیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے بتایا کہ میں شرائط کےساتھ کام جاری نہیں رکھ سکتا، میرا استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے اور ہمارا اختتام اچھے موڑ پر ہوا ہے، وزیراعظم نے میرے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا، میری بھی ان کے لیے نیک خواہشات ہیں۔واضح رہے کہ آفتاب سلطان سنہ 1954 میں پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک سیاسی اور صنعتی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے قانون میں گریجوئیشن کے بعد آفتاب سلطان نے سنہ 1977 میں مقابلے کا امتحان پاس کیا اور پولیس سروس میں شمولیت اختیار کر لی۔آفتاب سلطان اپنے کیریئر کے دوران مختلف تنازعات کا شکار بھی رہے۔ جب پرویز مشرف نے ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کے بعد سنہ 2002 میں ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس وقت آفتاب سلطان سرگودھا میں ڈی آئی جی کے عہدے پر تعینات تھے۔







