ایس ایم ایز کوآسان قر ضوں کی فراہمی سے معیشت جلد بحا ل ہو سکتی ہے،احسن بختاوری

اسلام آباد (روزنامہ قوم انٹرنیشنل) متحدہ عرب امارات کی کمپنی انوائس میٹ کے ایک وفد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اوربزنس کمیونٹی کو بلاک چین پر مشتمل انوائس مینجمنٹ سسٹم کے بارے میں ایک پریزینٹیشن دی تا کہ کاروباری اداروں میں اس جدید سسٹم متعارف کرا کر ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے اور ایس ایم ایز کی مالی شمولیت کو بہتر فروغ دیا جائے۔ انوائس میٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو محمد سلمان انجم، شریک بانی اور متحدہ عرب امارات کی انسانی وسائل کی وزارت کے مشیر برائے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سعید الہیبسی، انوائس میٹ کے شریک بانی اور پروڈکٹ ڈیزائن لیڈ محمد ذیشان عابداور بلاک چین پنک لیب جرمنی کے بانی رافیل شلز وفد میں شامل تھے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ محترمہ راشدہ باجوہ بھی وفد کے ہمراہ تھیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، احسن ظفر بختاوری، صدر، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے متحدہ عرب امارات کے وفد کا چیمبر میں خیرمقدم کیا اور انہیں پاکستان میں ایس ایم ایز کی سہولت کیلئے جدید انوائس مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کیلئے چیمبر کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے ایس ایم ای کی مالیاتی شمولیت کو بڑھانا بہت ضروری ہے اوراس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے انوائس میٹ کی کاوشوں کو سراہا۔۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کو پاکستان میں نجی شعبے کے کل قرضوں کا صرف 6 فیصدقرضہ ملتا ہے جو کہ جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے اور ان کاروباری اداروں کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نجی شعبے کے کل قرضوں کا کم از کم 20فیصد ایس ایم ایز کو فراہم کرے جس سے ان کاروباری اداروں کو بہتر ترقی ملے گی، کاروباری سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہو گااور پاکستان پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔
اس موقع پر انوائس میٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو محمد سلمان انجم اور شریک بانی سعید الہیبسی نے کہا کہ وہ پاکستان میں کاروباری اداروں کیلئے پائیدار مالی شمولیت کے مواقع پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے بزنس کمیونٹی کو دنیا کے پہلے بلاک چین سے چلنے والے انوائس مینجمنٹ اور فنانسنگ سسٹم کے تمام پہلوؤں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جو انوائس کی آٹومیشن کرتا ہے اور کاروباری اداروں کے مالی اور دیگر وسائل کی بچت کر تا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انوائس میٹ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بلا ک چین اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرتا ہے جو کاروبار کو متعدد فوائد فراہم کرتا ہے جن میں قابل ادائیگی کام کے بوجھ میں 70 سے 80 فیصد کمی، ادائیگی کی غلطیوں میں 60 سے 70فیصد کمی، فی انوائس لاگت میں 40 سے 50 فیصد کمی،ڈیٹا کی 95 سے 100 فیصد درستگی اور مفاہمت کی کوششوں میں 70 سے 75فیصد کمی نمایاں ہیں۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدرفاد وحید نے کہا کہ ایس ایم ایز معیشت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ آئی سی سی اپنی ممبر کمپنیوں میں انوائس میٹ کے جدید ترین انوائس مینجمنٹ سسٹم کو متعارف کرانے میں ہرممکن تعاون کرے گا تاکہ ان کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں