صدر علوی،ڈپٹی سپیکراورعمران نیازی نے جوکام کیئے وہ آئین توڑنے کے مترادف ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ڈپٹی سپیکر ، صدر مملکت اور عمران نیازی نے جو کیا وہ آئین توڑنے کے مترادف تھا، اب وقت آگیا ہے کہ آئین توڑنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6کا مقدمہ بننا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو آئین کی حفاظت کرتے ہوئے متحد نظر آنا چاہیے، سپریم کورٹ پاکستان میں انصاف کا سب سے بڑا ادارہ ہے، ججز ادارے کی عزت کی حفاظت کریں۔ ایک جج کے دستبردار ہونے سے نیا بنچ بنے گا، یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ سب ٹھیک نہیں، یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ تمام ادارے انتشار کا شکار ہیں، عدالت عظمیٰ تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اندر اتحاد کا مظاہرہ نہیںہورہاتو سیاسی جماعتوں کوکیسے اتحاد کا کہیں گے ؟ موجودہ بحران اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو آئین نے فرض عائد کیا اس کی ادائیگی کی اشد ضرورت ہے، مریم نواز یاد دہانی کروا رہی ہیں کہ پلڑے برابر رکھے جائیں، کیاسابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ نے پلڑے برابر رکھے تھے؟ اس وقت کی اسٹیبلیشمٹ کے کہنے پر وزیراعظم کو ٹارگٹ کیاجاتاہے ،کیایہ انصاف ہے؟عدلیہ اپنے کنڈکٹ اور فیصلوں سے پہچانی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست سیاستدانوں تک رہنے دیں، جن اداروں کے ہاتھ میں ترازو ہے وہاں سیاست داخل نہ ہونے دیں، سیاست کو ایسے اداروں میں نہ لے کرجائیں جن کاکام انصاف ہے، کل بھی کہا تھا جامع مذاکرات کا فائدہ ہے، حل کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل ہونا چاہیے۔ سیاستدان ایک اسٹیک ہولڈر ہیں راولپنڈی والے بھی اسٹیک ہو لڈر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صرف مذاکرات، مذاکرات کی گیم نہیں ہونی چاہیے، اس رات ڈپٹی سپیکر اور صدر مملکت نے جو کیا وہ آئین توڑنے کے مترادف تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ عمران نیازی صاحب، ڈپٹی سپیکر اور صدر مملکت پر آئین توڑنے کا مقدمہ ہونا چاہیے۔ خواجہ آصف نے لکی مروت میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد اس وقت ملک پر حملہ آور ہیں، 2008ء میں بھی 45 دن شامل ہوئے تھے، آج بھی ملک میں خون ریزی ہو رہی ہے، بی بی کی شہادت پر بھی مدت بڑھائی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں