اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کی ہدایت پر وزارت خزانہ حکام نے وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دیں۔گزشتہ روز حکام وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لئے ان سے بجٹ کی تفصیلات شیئر کی جائیں گی، اور آئی ایم ایف کے اعتراضات کی صورت میں بجٹ میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے تجاویز میں ایف بی آر اہداف، قرضوں کی ادائیگیوں سمیت اہم اہداف کی تجاویز شئیر کی گئی ہیں، آئی ایم ایف ان تجاویز کا جائزہ لے کر وزارت خزانہ حکام سے بجٹ پر بات چیت کرے گا۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی بجٹ میں قرض اور سود کیلئے 8 ہزار ارب تک مختص کرنے کی تجویز ہے، اور دفاعی اخراجات 1.7 ٹریلین سے زائد رکھنے کا تخمینہ ہے، جب کہ نان ٹیکس آمدن کے ذریعے 2.5 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف ہے۔ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک منافع 900 ارب اور پی ڈی ایل سے 750 ارب روپے اکٹھے کئے جائیں گے، آئندہ بجٹ میں سبسڈیزکی مدمیں1.3ٹریلین مختص کرنے کی تجویز ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کا 6.4 فیصد رہ سکتا ہے، وفاق اور صوبوں کا بجٹ خسارہ 4.8 سے 5 فیصد تک رکھنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی اسٹیٹ بینک حکام سے آئندہ مالی سال کیلئے فنانسنگ پر بھی بات چیت جاری ہے، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ سے قبل معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسٹاف لیول معاہدے کو منظوری کیلئے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کو بھجوا دیا جائے، موجود پروگرام مکمل ہوتے ہی پاکستان اگلے پروگرام کے لئے مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے رابطہ کرکے آئی ایم ایف پروگرام بحالی میں ڈیڈلاک ختم کرنے کیلیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی ۔وزارت خزانہ کے آئی ایم ایف سے گزشتہ 4ماہ سے جاری مذاکرات ابھی تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکے جس کے بعد آخری کوشش کے طور پر وزیراعظم نے خود معاملے میں مداخلت کی ہے تاکہ 6.5 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج اور فارن فنڈنگ بحال ہو سکے۔ماضی میں وزیراعظم نے کرسٹالینا جارجیوا کو فون کر کے جائزہ بات چیت شروع کرنے کیلیے مداخلت کی اپیل کی تھی جس کے بعد اس سال فروری میں مذاکرات شروع ہوئے تھے۔سرکاری ذرائع نےبتایا کہ وزیراعظم ڈیفالٹ سے بچنے کیلیے آئی ایم ایف کو آخری سہارا سمجھتے ہیں اسی لیے انھوں نے خود رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا، شہباز شریف اور کرسٹالینا میں یہ بات چیت ہفتہ کے روز ہوئی جس کے بعد وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو آئندہ بجٹ کی تفصیلات آئی ایم ایف سے شیئر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت خزانہ اس سے پہلے یہ تفصیلات آئی ایم ایف کو بتانے سے گریزاں تھی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے آئی ایم ایف سربراہ کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے فروری میں طے پانے والی تمام شرائط پوری کر دی ہیں اس لئے اب اسٹاف لیول معاہدے کا اعلان کر دینا چاہئے۔ آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے نئے بجٹ کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جس کے بعد یہ دونوں رہنماؤں میں یہ اتفاق ہوا کہ پاکستان بجٹ تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کریگا۔جس کے بعد وزیراعظم نے وزارت خزانہ کے حکام کو بجٹ تجاویز آئی ایم ایف کیساتھ شیئر کرنے کی ہدایت کی ۔







