نیازی نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے ریاست کو قربان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،وزیراعظم

ڈیرہ اسماعیل خان(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جب میں نے اقتدار سنبھالا تو مجھے احساس تھا کہ حالات بہت مشکل ہیں لیکن اس کا اندازہ نہیں تھا کہ حالات حد درجہ تباہ کن ہیں، گزشتہ 15، 16 ماہ کے قلیل عرصے میں ہمیں تاریخ کے مشکل ترین چیلنجز ملے،نیازی حکومت نے اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے ریاست کو قربان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جبکہ ہماری مخلوط حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہم سیاست کو قربان کردیں گے مگر ریاست کو بچا لیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے جہاں انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔اس موقع پر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود،وفاقی وزیر توانائی انجینئرخرم دستگیر، وزیرمملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک کے علاوہ علاقے کے معززین اوعمائدین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔وزیراعظم نے جن 8بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا ان میں یارک سے پہاڑ پور شاہراہ، بنوں چوک تا موٹروے شاہراہ، ڈیرہ اسماعیل خان بائی پاس، یارک تا ٹانک سمیت مختلف رابطہ سڑکیں، 220کے وی سب سٹیشن اور تیل و گیس کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج میرا ڈیرہ اسمعٰیل خان کا چوتھا دورہ ہے، میرے لیے بہت عزت کی بات ہے کہ آپ کے سامنے ایک بار پھر حاضر ہوں۔انہوں نے کہا کہ 15، 16 ماہ کے قلیل عرصے میں ہمیں تاریخ کے مشکل ترین چیلنجز ملے، اس کو کہتے ہیں سر منڈاتے ہی اولے پڑ گئے، 11 اپریل 2022 کو جب میں نے اقتدار سنبھالا تو مجھے احساس تھا کہ حالات بہت مشکل ہیں لیکن اس کا اندازہ نہیں تھا کہ حالات حد درجہ تباہ کن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار سنبھالا تو تاریخ کا بدترین سیلاب آیا جس کی بحالی کے لیے ہم نے 100 ارب روپے خرچ کیے لیکن سیلاب زدگان کا حق ہم آج بھی ادا نہ کر سکے، اس کی وجہ وسائل کی شدید قلت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اپنے سیاسی کریئر میں ایسے چیلنجز کا سامنا نہیں کیا، مولانا فضل الرحمٰن، پیپلزپارٹی اور دیگر زعما سمیت خود میرے قائد نواز شریف عوام پر مہنگائی کے بوجھ کی وجہ سے پریشان تھے اور مجھ سے سوال کرتے تھے کہ کیا بنے گا؟انہوں نے مزید بتایا کہ میرا جواب یہی ہوتا تھا اور یہی رہے گا کہ نیازی حکومت نے اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے ریاست کو قربان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جبکہ ہماری مخلوط حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہم سیاست کو قربان کردیں گے مگر ریاست کو بچا لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہی فیصلہ تھا جس کی خاطر ہم ڈٹ گئے ورنہ اگر ملک قربان ہوجاتا تو کہاں کہ سیاست اور کہاں کی وزارت عظمیٰ، ہم نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے لیکن ہمارے قدم نہیں ڈگمگائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا مجھے امید ہے کے رواں برس کپاس کی ریکارڈ فصل پیدا ہونے والی ہے، ہمیں گندم اور کپاس منگوانے کے لیے جو اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑتے تھے اس میں بہت کمی آجائے گی۔قبل ازیں وزیر مملکت مصدق ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے کہا تھا کہ پاکستان میں توانائی اس صورت میں آنی چاہیے کہ غریب عوام اس کا حصول کر سکے، ایسی توانائی نہیں چاہیے جس کی کوئی استطاعت نہ رکھتا ہو۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے 3 بار کہا کہ صرف سیاست نہیں کرنی، پہلے ملک بنانا ہے، بعد میں دیکھیں گے کہ سیاست کا کیا بنتا ہے، یہ وہ مینڈیٹ تھا جو مجھے وزیر اعظم نے دیا تھا، انہوں نے مجھے کہا تھا کہ ہمیں لوگوں کو نوکریاں دینی ہیں اور ملک کی ترقی کی رفتار کو بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا وزیراعظم کی قیادت میں گزشتہ ایک برس کے دوران ہم نے 138 ایم ایم سی ایف ڈی نئی گیس سسٹم میں ڈالی ہے جوکہ پہلے موجود نہیں تھی، اس سے ہمیں 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا فائدہ ملا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں