اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل) سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کر لیا گیا۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا جس کی شق وار منظوری دے دی گئی
۔نئے منظور شدہ بل کے تحت سرکاری حیثیت میں ملکی سلامتی، مفاد میں حاصل معلومات کے غیر مجاز انکشاف پر 5 سال تک سزا دی جائے گی۔آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی۔ پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایک اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔
اس قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔ 12 جون2023ء کو قومی اسمبلی نے ایک قرارداد کی منظوری دی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے مرتکب عناصر کے خلاف آرمی ایکٹ 1952 کے تحت بلا تاخیر کارروائی مکمل کر کے انہیں سزا دلوائی جائے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ ایک سیاسی جماعت اور اس کے چیئر مین نے 9 مئی، کو آئین و قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ملکی سلامتی کے حامل اداروں کے خلاف کارروائیوں میں تمام حدود و قیود کو عبور کرتے ہوئے فوجی تنصیبات پر حملے کئے اور اس جماعت اور اس کے سربراہ کے اقدامات سے ملک ریاست اور ریاستی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا جس کے تمام شواہد موجود ہیں۔
لہذا ان کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق ایک دن کی بھی تاخیر کئے بغیر کارروائی مکمل کی جائے۔ اس جماعت اور اس کے سربراہ کی پاکستان دشمن کارروائیوں کا بوجھ اس کی اپنی جماعت کے رہنما و کار کن بھی نہیں اٹھارہے ہیں اور ان سے لا تعلقی کا اظہار کر رہے ہیں جس سے اس امر کی توثیق ہوئی ہے کہ اس جماعت اور اس کے سربراہ کا ایجنڈ املک دشمنی پر مبنی ہے۔یہ ایوان قرار دیتا ہے کہ شرپسند اور مجرم عناصر کے خلاف کارروائی کے دوران کسی قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی گئی اور اس حوالے سے ایک سیاسی جماعت کے الزامات اور پروپیگنڈا لغو ، جھوٹ اور بہتان بازی پر مبنی ہے اور اس میں کسی قسم کی صداقت نہیں ہے
چونکہ پوری دنیا میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے جیسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار وہاں کی افواج کو میسر ہے ۔ پاکستان میں بھی ایسے عناصر کے خلاف قانونی اور آئینی تحفظ حاصل ہے۔ لہذا ان واقعات میں ملوث تمام افراد کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ، کے تحت بلا تاخیر کارروائی مکمل کر کے سزا دلوائی جائے۔







