اسلام آباد(کیپیٹل رپورٹ)پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی دہشت گردی پر تشویش ہے ،مودی حکومت جنوبی ایشیاء سمیت پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلا رہی ہے،توہین رسالت کا قانون کسی کے خلاف امتیازی قانون نہیں ہے،
اس قانون کا استعمال کسی اقلیت کے خلاف نہیں کرتا، بلا امتیاز کارروائی قانون کے مطابق کی جاتی ہے،ملک میں تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں،آرمی چیف عاصم منیر سرکاری دورے پر امریکہ میں ہیںاور ان کی حکام سے اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں ،مسئلہ فلسطین کے آزاد، خود مختار اور جون 1967 سے قبل سرحدی حدود والی ریاست کی حمایت کرتا ہے
،23 دسمبر کو تہران میں فلسطین سے متعلق کانفرنس میں پاکستان میں شرکت کرے گا، فلسطین کی آزادی ریاست کے قیام پر اسرائیلی آفیشل کے بیانات پر تشویش ہے،پاکستان کشمیریوں کی سیاسی اور سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رواں ہفتے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کویت کا ایک روزہ دورہ کیاہے،نگران وزیراعظم نے کویت کے امیر کے انتقال پر حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کی جانب سے اظہارتعزیت کیا،پاکستان اور برونائی کے مابین دو طرفہ مشاورت اور تعاون کا ورچوئل افتتاحی دور منعقد ہوا،نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے 166 ہندو یاتریوں کو ویزے جاری کیے،پاکستان ہندو اور سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتا ہے ،
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے نگران وزیر خارجہ نے بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان کو مقبوضہ جموں کشمیر کی صورتحال سے متعلق خطوط لکھے،وزیر خارجہ نے خطوط میں بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں کشمیر میں جاری بھارتی غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کیا،ترجمان دفتر خارجہ نے کہ اکہ پاکستان کشمیری بہن بھائیوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک ان کی سفارتی،سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا ،پاکستان کو فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت پر شدید تشویش ہے
،پاکستان غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت کرتا ہے،اس ماہ بابا گرونانگ کے 554 ویں سالانہ تقریبات میں شرکت کے لئے 3006 بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کئے گئے،پاکستان مذہبی رواداری اور احترام کو فروغ دیتا ہے اس سال 6 ہزار 824 بھارتی یاتریوں کو ویزوں کو اجراء ہوا،وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اقوام متحدہ کے رہنماؤں کو خطوط ارسال کئے،خطوط میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق فیصلہ کو غیر قانونی قرار دیا گیا مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے،پاکستان کشمیریوں کی سیاسی اور سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھے گا،پاکستان کو مقبوضہ فلسطین پر اسرائیل کی جانب سے بڑے پیمانے پر جارحیت پر بھی تشویش ہے،ہسپتالوں پر حملے، بچوں اور خواتین کا قاتل عام کیا گیا جو انتہائی قابل مذمت ہے،
پاکستان ان جنگی جرائم پر اسرائیل کے محاسبہ کا مطالبہ کرتا ہے،اقوام متحدہ فلسطین کی صورتحال پر نوٹس لے اور سلامتی کونسل فوری جنگ بندی کے اقدامات لے،ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو فلسطین کی آزادی ریاست کے قیام پر اسرائیلی آفیشل کے بیانات پر تشویش ہے،یہ بیانات اوسلو معاہدے کی خلاف ورزی ہے،پاکستان مسئلہ فلسطین کے آزاد، خود مختار اور جون 1967 سے قبل سرحدی حدود والی ریاست کی حمایت کرتا ہے،پاکستان 23 دسمبر کو تہران میں فلسطین سے متعلق کانفرنس میں شرکت کرے گا،
ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سرکاری دورہ پر امریکہ میں ہیں،آرمی چیف نے دفاعی معاملات کے فروغ بارے بات چیت کی ہے،بھارت ہمیشہ پاکستان پر الزام تراشی اور جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے،ای یو ڈس انفو لیب کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلایا گیا،ترجمان نے پاکستان کے خلاف داؤد ابراہیم کی کراچی اسپتال میں داخل اور زہر خورانی کہا کہ بھارت من گھڑت باتیں پھیلا رہا ہے اس حوالے سے خبریں من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہے ،
ریاست پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین کوئی بات چیت نہیں ہورہی ،ہماری توجہ اور مطالبہ ٹی ٹی پی اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہے،افغان حکام اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف دہشت گروں کے خلاف کاروائی کرے،ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اچھے اور مضبوط تعلقات ہیں،دہشت گردی کے خاتمے کے لئے امریکہ سمیت تمام ممالک سے رابطے میں رہتے ہیں ،امید کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف کارروائیوں میں استعمال نہ ہو
،افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں ،پاکستان نے افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کا معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھایا ہے،پاکستان دہشت گردوں کے خاتمے کا خواہاں ہے،پاکستان کو بھارتی دہشت گردی پر شدید تشویش ہے،بھارت جنوبی ایشیا کے علاوہ پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے،
کمانڈر کلبھوشن یادیو جاسوسی اور تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار ہوا،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توہین رسالت کا قانون کسی کے خلاف امتیازی قانون نہیں ہے،پاکستان اس قانون کا استعمال کسی اقلیت کے خلاف نہیں کرتا، بلا امتیاز کارروائی قانون کے مطابق کی جاتی ہے،پاکستان میں تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔







