فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل پر انٹراکورٹ اپیلوںپرسماعت کرنیوالا بنچ ٹوٹ گیا

اسلام آباد(کیپیٹل رپورٹ)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل پر انٹراکورٹ اپیلوں خصوصی کورٹس کیس کی سماعت کرنیوالا سپریم کورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا،9 اور 10 مئی کے واقعات میں گرفتار افراد کا ملٹری ٹرائل جاری رہے گا،

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی معطلی برقرار رکھی ہے،،تین رکنی ججز کمیٹی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے لیے نیا لارجر بنچ تشکیل دے گی۔جسٹس سردار طارق نے بنچ سے علیحدگی اختیار کر لی۔جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی بنچ نے سماعت کی۔

بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس امین الدین خان، محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی ،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت بنچ میں شامل تھے۔پیرکوسماعت شروع ہوئی تو جواد ایس خواجہ کے وکیل نے بنچ پر اعتراض اٹھا دیااوروکیل خواجہ احمد حسن نے کہاکہ بنچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجا جائے،

اس دوران لاہور بار کے وکیل حامد خان کی کیس میں دلائل دینے کی کوشش کی تواس پرجسٹس سردار طارق مسعود نے کہاکہ اگر ہم نے کیس سننا ہی نہیں تو دلائل نہ دیں، ہم پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ میں کیس سے الگ ہو جائوں، اس لیے معاملہ چیف جسٹس پاکستان کوواپس بھیجاجارہاہے ،بعدازاں عدالت نے بنچ کی بنچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجوا دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں