اسلام آباد(کیپیٹل رپورٹ) سپریم کور ٹ نے توہین مذہب کیس میں ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ شکایت 2019میں ہوئی تو مقدمہ 2022میں کیسے درج ہو سکتا ہے؟ ایک ناقابل اشاعت کتاب کو کوئی کیسے تقسیم کرسکتا ہے؟ سورة الحجر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالی خود اپنی کتاب کا تحفظ کرے گا، انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روزدیے ہیں۔اورکیس کی سماعت چھ فروری تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔درخواڈت گزار کے وکیل نے موقف اختیارکیاکہ ملزم مبارک احمد کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ، درخواستگزار کو غلط الزام میں گرفتار کیا گیا ،گرفتار ملزم کا تعلق احمدیہ جماعت سے ہے، اس پر چیف جسٹس نے پوچھاکہ ملزم پر الزام کیا ہے؟ وکیل نے بتایاکہ پنجاب حکومت کی پابندی شدہ کتاب تقسیم کرنے کا الزام ہے، اس پرچیف جسٹس نے کہاکہ یہ جرم تو ریاست کیخلاف ہے، وکیل نے مزیدبتایاکہ کتاب نجی تقریب میں احمدیوں کے بچوں میں تقسیم ہو رہی تھی، تقریب سال 2019 میں ہو?ی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ شکایت 2019میں ہو?ی تو مقدمہ 2022میں کیسے درج ہو سکتا ہے؟ ایک ناقابل اشاعت کتاب کو کو?ی کیسے تقسیم کرسکتا ہے؟ سورة الحجر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالی خود اپنی کتاب کا تحفظ کرے گا،بعدازاں نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی گئی۔







