یوم آزادی کے تقاضے

تحریر : جاوید انتظار

14 اگست 1947 کو دنیا کا نقشہ بدل گیا تھا ۔جب دنیا کے نقشے میں ایک نئے ملک پاکستان کااضافہ ہوا۔ پاکستان طویل جدو جہد اور ان گنت قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ۔ تحریک پاکستان میں ایک سوچ نے جنم لیا کہ مسلمانان ہند کو ایک علیحدہ مملکت خدا داد چائیے ۔ جس کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا۔ مسلمان اور ہندو دو علیحدہ قومیں ہیں۔ جنکے رسم و رواج ، رہن سہن ، مذہبی عقائد ، نظریات و دیگر معاملات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ جس کی وجہ سے مسلمانان ہند کا مطالبہ ایک ایسے ملک کا قیام عمل میں لانا تھا۔ جس میں رہ کر وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں ۔ آزادانہ سیاست کر سکیں۔ تعلیم، روزگار ، کاروبار اور مذہبی عقائد کے مطابق زندگی بسر کر سکیں ۔ اس امر کی تکمیل کے لئے سوچ پیدا ہوئی ۔ سوچ نے تحریک کی شکل اختیار کر لی ۔ تحریک کو قائد اعظم محمد علی جناح جیسی محنتی ، ایماندار ، باصلاحیت ، بے غرض ، سچی اور ولولہ انگیز قیادت مل گئی۔ جنکی قیادت اور اللہ کی مدد سے تحریک پاکستان کے مقاصد پایہ تکمیل کو پہنچے، اور پاکستان بن گیا۔ جس کے لئے ہمارے آباؤ و اجداد نے جانوں کے نذرانے پیش پیش کئے۔ اپنی جائیدادیں اور کاروبار چھوڑ دئیے۔ تاکہ آنے والی نسل کے لئے وہ ایک آزاد اور خود مختار ملک چھوڑ کر جائیں۔ تحریک پاکستان اور ہجرت کے مناظر آنکھوں کے سامنے آتے ہیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔
قائد اعظم پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بن گئے۔ انکی دیانتداری اور ایمانداری کی بے شمار مثالیں ہیں ۔

انہوں نے اپنی ساری جائیداد مال و دولت ریاست پاکستان کے نام کر دی۔ حتیٰ کہ اپنے دفتر سے نکلتے وقت لائٹس آف کر دیا کرتے تھے کہ قوم کی بجلی ضائع نہ ہو۔ جب بحیثیت گورنر جنرل پاکستان کابینہ کا پہلا اجلاس صبح نو بجے طلب کیا۔ انکے سیکرٹری نے پوچھا کہ اراکین کابینہ کے لیے چائے بسکٹ کا بندوست کیا جائے ۔ تو قائد اعظم نے فرمایا کہ کیا وہ گھر سے ناشتہ کر کے نہیں اتے۔پاکستان کابینہ کے فضول خرچے اٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے کابینہ کے اجلاس میں صرف پینے کا پانی رکھا جائے۔ جب فیصلہ ہو گیا کہ اب پاکستان بن جائے گا۔ تب ہندوؤں کے لیڈر گاندھی اور انگریزوں کے واسرائے نے قائد اعظم کے عزم کو متزلزل کرنے کے لئے اور پاکستان کے قیام کو متنازعہ بنانے کے لیے آخری کارڈ کھیلا۔ دونوں قائد اعظم محمد علی جناح رح کے پاس آئے اور کہا کہ آپ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ قائد اعظم نے رعب دار اور فیصلہ کن انداز میں کہا ہاں( yes) . دونوں نے اقتدار کا لالچ دیتے ہوئے کہا کہ آپ بر صغیر پاک و ہند کے وزیر اعظم بن جائیں۔ مسلمان وزیر اعظم بن جائے گا تو مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہو جائے گا ۔ قائد اعظم نے غصے میں کہا نہیں( No) . اس وقت اگر خدا نخواستہ اقتدار کے ہوس میں پاک و ہند کے وزیر اعظم بن جاتے ۔ تو نہ پاکستان بنتا۔ نہ آج پاکستانی روپے پر قائد اعظم کی تصویر ہوتی ۔ بڑا لیڈر کبھی اپنے نظریات اور منشور پر اقتدار کے لئے سمجھوتہ نہیں کرتا۔ قائد اعظم کی بلند پایہ اور اعلیٰ مرتبت شخصیت کے اتنے رنگ روپ ہیں جسے تحریر کرنے کے لیے ایک کالم ناکافی ہے۔

کوئی ملک، انسان اور معاشرہ اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔ جتنے اسکے خواب ، اسکے اہداف اور اسکی سوچ بڑی ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی اور حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ تحریک پاکستان والا جزبہ تکمیل پاکستان کے لئے مفقود ہو گیا۔ محض اقتدار کی جنگ سیاسی جماعتوں ، ریاستی اور سویلین اداروں کا طرہ امتیاز بن گئی۔ پاکستان ، پاکستانیت اور پاکستان کے جھنڈے کی سربلندی کے جذبے کی جگہ سنگھاسن اقتدار پر براجمانی کی سطحی سوچ نے لے لی۔ ملک کے جاگیردار، سرمایہ دار طبقات اور اسٹیبلشمنٹ نے عوام کے حقوق سلب کر لئے۔ سیاست کو پیسے کی لونڈی بنا کر غالب اکثریتی غریب و متوسط طبقے کو کان سے پکڑ کر امور مملکت اور سیاست سے باہر نکال دیا۔ جس کی وجہ سے ملک کی حقیقی لیڈرشپ اور نمائندگی کو سر عام قتل کر دیا گیا۔ جب سے پاکستان بنا ہے ملک کے عوامی لیڈرشپ کو کبھی پھانسی دے دی گئی، کبھی پابند سلاسل کر دیا گیا۔ کبھی قتل کر دیا گیا ۔ کبھی وزراء اعظم کو ایسے اقتدار سے نکالا گیا جیسے کسی چپڑاسی کو بھی نہیں نکالا جاتا۔ قومی وسائل اور صلاحیتوں کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا گیا ۔ جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ آج قومی معیشت پر اغیار کا تسلط ہے۔ ہم اپنا وفاقی بجٹ بھی خود بنانے کی پوزیشن میں نہیں رہے ۔ تعلیم ، صحت اور عام آدمی کے معیار زندگی میں دنیا کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے۔ملک پل صراط پر چل رہا ہے۔ عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں۔ آمریت کے لبادے میں جمہوریت قید ہے۔عہدہ کسی کے پاس ہے اختیار کسی اور کے پاس ہے ۔اس کے باوجود پاکستان مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔

ملک کی دفاعی سرحدیں مضبوط ہیں۔ جس کی بڑی مثال پاک فوج نے اپنے ازلی دشمن بھارت کو مئی 2025 میں عبرتناک شکست دے کر دنیا میں اپنا لوہا منوایا ۔یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت اور احتساب ہو۔ہر ریاستی اور قومی ادارہ اپنے اپنے آئینی حدود و قیود میں رہ کر خدمات سرانجام دے ۔ سیاسی و جمہوری استحکام میں معاشی استحکام کی مضبوطی کا پاکستان تقاضا کر رہا ہے۔ یوم آزادی تقاضا کر رہا ہے کہ تمام جمعوری قیادت اور لیڈرشپ اپنے اپنے نظریات کو برقرار اور بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک سوچ پر متفق ہو جائیں کہ ملک کا ہر ادارہ اپنی آئینی حدود و قیود میں رہ کر کام کرے۔ کسی قسم کی ایک ادارے کی دوسرے ادارے میں مداخلت برداشت نہ کی جائے ۔ یوم آزادی تقاضا کر رہا ہے کہ اگر ملک کے کسی ادارے میں کرپشن ہے تو اسے ختم یا بدنام کرنے کی بجائے اسکی کارکردگی کو بہتر کرنے کے اقدامات اور منصوبہ بندی کی جائے۔ کرپشن معاشرے کے وجود میں سرایت کر چکی ہے۔ جسکا علاج ممکن نہیں پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے۔ کرپشن تمام برائیوں کی ماں ہے۔
برے کو نہ مارو اسکی ماں مار دو کے دو ٹوک اصول پر عملدرآمد کیا جائے۔ اس کے لئے سب سے بہترین عمل اور کامیابی کا فامولا ذات کی درستگی ہے۔ ہر فرد اپنی ذات میں موجود کرپشن کو ختم کر دے۔ اپنی توجہ کا محور و مرکز قومی مفاد کو بنا لے۔ سوچ بدل گئی تو سب بدل جائے گا۔ پاکستان بدل جائے گا ۔
بقول شاعر:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں