عالمی یومِ انسدادِ چائلڈ لیبر: پاکستان میں بچوں کی مشقت، ایک نہ ختم ہونے والا المیہ

تحریر: رانا کوثر علی

دنیا بھر میں آج 12 جون کو بچوں سے مشقت کے خاتمے کا عالمی دن (World Day Against Child Labour) منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں بچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف شعور بیدار کرنا اور حکومتوں، اداروں، والدین اور معاشرے کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کروانا ہے۔
عالمی پس منظر
عالمی سطح پر یہ دن پہلی بار 2002 میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی جانب سے منایا گیا۔ اس کے بعد سے ہر سال 12 جون کو دنیا بھر میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عزم کے ساتھ مختلف تقاریب، مہمات اور آگاہی پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں۔
ILO کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 16 کروڑ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں، جیسے کہ کان کنی، زراعت، فیکٹریوں اور تعمیراتی کاموں میں۔ ان بچوں میں سے کئی اسکول سے باہر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ نہ صرف ان کا بچپن چھن چکا ہے بلکہ ان کا مستقبل بھی تاریک ہو رہا ہے۔
پاکستان کا تناظر
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں چائلڈ لیبر ایک مستقل اور پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ تازہ ترین دستیاب رپورٹس کے مطابق ملک میں بچوں سے محنت مشقت کروانے کی شرح 16.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ غربت، بے روزگاری، تعلیم تک عدم رسائی اور سوشل پروٹیکشن سسٹمز کا فقدان ہے۔
ایک سرکاری رپورٹ 1996 میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 33 لاکھ بچے مزدوری پر مجبور تھے، جب کہ 2004 کی ILO رپورٹ کے مطابق یہ تعداد بڑھ کر 56 لاکھ ہو چکی تھی۔ اگر غیر رسمی شعبے، گھریلو مزدوری اور دیہی علاقوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ موجودہ غیر سرکاری تخمینوں کے مطابق ملک بھر میں چائلڈ لیبر کا شکار بچوں کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
پنجاب میں صورت حال
سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب ہے، جہاں چائلڈ لیبر کی شرح تقریباً 14 فیصد کے قریب ہے۔ فیکٹریوں، ورکشاپس، چائے کے ہوٹلوں، اینٹوں کے بھٹوں، زراعت اور کارخانوں میں ہزاروں بچے انتہائی کم اجرت پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر بچے اسکول نہیں جاتے اور ان کے والدین غربت کی وجہ سے ان سے کمائی کی توقع رکھتے ہیں۔
قانون موجود، مگر عملدرآمد نہیں
پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے قوانین تو موجود ہیں، جیسے کہ:

The Employment of Children Act, 1991
Punjab Restriction on Employment of Children Act, 2016
ILO Conventions No. 138 (Minimum Age) and No. 182 (Worst Forms of Child Labour)

تاہم، ان قوانین پر عملدرآمد کی شرح نہایت کم ہے۔ متعدد بار حکومتوں کی جانب سے بلند و بانگ دعوے کیے گئے، مگر زمینی حقائق نہیں بدلے۔ چائلڈ لیبر کو ختم کرنے کے لیے محض اعلانات کافی نہیں، بلکہ سخت اقدامات، شفاف نگرانی اور پائیدار پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
گھریلو مزدوری: نظر انداز شدہ خطرہ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سب سے خطرناک اور نظر انداز کی گئی چائلڈ لیبر کی شکل گھریلو مزدوری ہے، جہاں بچے گھروں میں ملازم رکھے جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر لڑکیاں شامل ہوتی ہیں جو جنسی ہراسانی، جسمانی تشدد اور جذباتی استحصال کا شکار بنتی ہیں، مگر ان کی تکالیف نہ تو منظرعام پر آتی ہیں اور نہ ہی ان کے لیے کوئی مؤثر قانونی چارہ جوئی کی جاتی ہے۔
عالمی اداروں کی تجاویز
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ:
معاشی استحکام کو فروغ دیا جائے
غریب خاندانوں کو سوشل پروٹیکشن فراہم کی جائے
تعلیم کو ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی بنایا جائے
روزگار کے مواقع بڑوں کے لیے فراہم کیے جائیں تاکہ بچوں سے کمائی نہ کروائی جائے
سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل
رواں سال چائلڈ لیبر کے عالمی دن کے موقع پر سوشل میڈیا پر مختلف صارفین، سماجی کارکنوں اور تنظیموں نے #EndChildLabour جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم آفس کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا جس میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عزم کو دہرایا گیا، مگر عوام کی طرف سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ محض بیانات سے کچھ نہیں ہوگا، اب وقت ہے حقیقی عملی اقدامات کا۔
نتیجہ
چائلڈ لیبر کا خاتمہ محض ایک دن کی مہم سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے سال بھر کی مستقل جدوجہد، ٹھوس پالیسی سازی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اور سماجی شعور کی بیداری ضروری ہے۔ جب تک ہم بچوں کو تعلیم، تحفظ، اور خوشی کا حق نہیں دیں گے، تب تک ترقی کا کوئی خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں