34 واں روز: جنگ، مذاکرات اور جنگ بندی کا شیطانی چکر برداشت نہیں: ایران

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ 34 ویں روز میں داخل ہو گئی، ٹرمپ نے ایران کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی دے دی، لبنان میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر شہید ہو گئے، امریکی اخبار کے مطابق یو اے ای آبنائے ہرمز بزور طاقت کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے، اسرائیل کی تہران پر رات بھر بمباری، ایران کے جوابی حملے بھی جاری ہیں۔

امریکا کی دھمکیوں پر ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نےکہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج اپنے ملک پر حملہ کرنے والوں کے پاؤں کاٹ دیں گے، تاریخ گواہ ہے کہ ایران نےکبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا، ایرانی پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کی باتوں کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ایرانی قوم کے دشمنوں کے لیے آبنائے ہرمز نہیں کھولا جائے گا۔

ادھر ایرانی پارلیمانی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا خطے میں میری ٹائم رجیم تبدیلی کی صورت میں ٹرمپ کا رجیم چینج کا خواب پورا ہوچکا ہے، ابراہیم عزیزی ٹرمپ کو مخاطب کرکے بولے آبنائے ہرمز یقینی طور پر دوبارہ کھلے گی لیکن آپ کے لیے نہیں۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو آبنائے ہرمز کھولنے سے مشروط کردیا، دھمکی دی کہ جب تک آبنائے ہرمز نہیں کھلتی تب تک ہم ایران کو مکمل تباہ کردیں گے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا ٹرمپ کے خطاب پر ردعمل میں کہنا ہے کہ ایران جنگ، مذاکرات اور جنگ بندی کے شیطانی چکر کو برداشت نہیں کرے گا، جاری جنگ ایران کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ جب تک امریکی اسرائیلی حملے جاری ہیں ایران بھی بھرپور جواب دیتا رہے گا، ایران خلیجی ہمسایوں کو دشمن نہیں سمجھتا، ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے، امریکا اور اسرائیل خلیجی ممالک کی سر زمین کو ایران کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ناجائز جنگ ہے جو ایرانی عوام پر مسلط کی گئی، ایران کے پاس بھرپور دفاع کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں