دم توڑتی زراعت اور زرعی ایمرجنسی

تحریر ؛
شمیض احمد اعوان **

ملک میں جاری عصاب شکن کشمکش کی صورت حال اور مہنگائی نے ہر انسان کو نہ صرف پریشان بلکہ اعصابی مریض بنا دیا ہے مہنگائی کی اس نہ تھمنے والی لہر میں باقی ضروریات زندگی کی چیزیں تو درکنار کھانے پینے کی اشیاء گندم سبزی ٹماٹر چاول اور دیگر اشیاء بھی ناپید ہوتی جارہی ہیں اور عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہیں اس کی وجہ کیا ہے اس پر ہمارے پالیسی سازوں کو غور و فکر کرنا چاہیے ضرورت زندگی کی دیگر اشیاء جن کا میٹریل باہر سے درآمد ہوتا ہے یا اشیاء باہر سے آتی ہیں ان کے بارے میں تو دل کو کمزور تسلی دی جا سکتی ہے کہ مہنگائی پوری دنیا میں ہے ڈالر مہنگا ہے وغیرہ وغیرہ ،
لیکن ہمارا زرعی ملک ہونے کے ناطے ہم کسی صورت اپنے دل اور عوام کو اپنے ملک میں پیدا ہونے والی اجناس کے ناپید اور مہنگا ہونے کی وجہ بتا سکیں اور قائل کر سکیں
آج کل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے جب کبھی گاؤں جانے کا اتفاق ہو اور گاؤں میں اپنے عزیزوں دوستوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملے تو زراعت کی ترقی کے لیے ایسے ایسے مشورے اور تجاویز سننے کو ملتے ہیں کہ بندہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر دور دراز پہاڑوں گاؤں میں بیٹھا کسان زمیندار اتنی اچھی تجاویز دے سکتا ہے سوچ سکتا ہے تو حکومت میں بیٹھا ہمارا وزیر، مشیر پالیسی ساز یہ کیوں نہیں سوچ رہا کہ ہمارا پاکستان ایک زرعی ملک ہے یہاں بسنے والے افراد میں سے بیشتر لوگ زراعت سے وابستہ ہیں ہمارے ملک میں جب تک زمیندار/ کاشتکار کو بہتر سہولیات نہیں دی جاتی میں تو کہتا ہوں بلکہ میں نہیں اب ہمارا کسان بھی یہ سوچتا ہے کہ اس ملک میں فوری طور پر زرعی ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے کسانوں کے مراعات ہنگامی بنیادوں پر دینی چاہیے اس میں ملک کی بہتری ہے معیشت کی بہتری ہے ہماری حکومتوں کو ہماری زراعت کی ترقی کے لیے جو فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ان میں چند ایک ضروری یہ ہیں۔
سب پہلے ایک خودمختار زرعی اتھارٹی بنائی جائے جس کا سربراہ زرعی شعبے سے وابستہ شخص ہو جو زراعت سے وابستہ کسانوں کے لیے جدید آئیڈیا متعارف کروائے اور آسانیاں پیدا کرے،
زراعت سے متعلق تمام زرعی میشنری کو ٹیکس فری اور کنٹرول ریٹ میں دستیاب ہونا چاہیے اس پر کسانوں کو بلاسود اور سبسڈی پر بنکوں سے قرض کی سہولت ہونی چاہیے ۔
کسانوں کے لیے کھاد بیج اور ادویات کی کنٹرول ریٹ اور سبسڈی پر فراہمی کے لیے نظام متعارف کروانے کی ضرورت ہے ادویات اور کھاد میں جاہل سازی پر سخت سزا ہو۔
کسانوں کو فری یا کم ریٹ/سبسڈی پر بجلی فراہم کرنے کی پالیسی بنانے چاہیے ۔
زراعت سے وابستہ میشنری جو ڈیزل سے چلتی ہے اس کو کنٹرول/سبسڈایز ریٹ پر ڈیزل فراہم کرنے کے لیے پالیسی بنانی چاہیے۔
حکومت کو کسانوں سے زرعی اجناس سبزی دالیں فروٹ گندم وغیرہ خریدنے کے لیے یونین کونسل لیول تک سنٹر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسانوں سے مناسب قیمت پر اجناس خرید کر عوام تک پہنچا سکے۔
کسانوں کی اجناس کو خراب ہونے گلنے سڑنے سے بچانے کے لیے تحصیل اور ضلع تک سٹوریج سنٹر بنانے چاہیے جس سے ہمارے کسانوں کی محنت سے پیدا کی گئی چیزوں کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔
کسانوں کو اپنے ٹیوب ویل وغیرہ سولر سسٹم پر منتقل کرنے کے لیے مراعات دی جائیں ۔
دیگر بہت سی ایسی تجاویز ہیں جو کسانوں کے نمائندوں سے مل بیٹھ کر معلوم کی جاسکتی ہیں ۔
یہاں پر میں خاص ذکر کروں گا بارانی علاقوں خطہ پوٹھوار
پہاڑی علاقوں کے کاشتکاروں کا جو محدود قطعات زمین کے مالک ہوتے ہیں اور اگر قسمت ساتھ دے اور سیکڑوں فٹ کی گہرائی سے پانی نکل آئے تو بارانی کاشتکاروں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے کسانوں کے مسائل نہری علاقوں کے کسانوں سے قدرے مختلف ہیں لیکن ایک قدر ضرور مشترک ہے کہ زرعی مصنوعات کی گرانی نے سب کو پریشان کررکھا ہے۔

گاؤں کے سادہ اور نیک نیت احباب ہم شہروں میں رہنے والوں کو بہت باخبر سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو تو ملک اور دنیا کی تمام خبروں کاعلم ہو گا اور حکومت کی اصل کارکردگی اور کمزوریوں سے بھی آگاہ ہوں گے۔

اسی امید کے سہارے ان کے بے شمار سوالات ہوتے ہیں جن میں سب سے بڑا سوال یہ آرہا ہے کہ حکومت کاشتکاروں کے لیے کسی ایسے مراعاتی پیکیج کا اعلان کیوں نہیں کرتی جس کی وجہ سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور ملکی ضروریات کو اپنے ہاں زرعی پیداوار کو بڑھا کر پورا کیا جا سکے اور جو زرمبادلہ بیرون ملک سے مہنگی اجناس کی درآمد پر خرچ کیا جاتا ہے، وہی سبسڈی کی صورت میں اپنے کاشتکاروں میں تقسیم کر دیا جائے تو یہ امداد زرعی پیداوار میں اضافے کا باعث بن جائے گی اور کاشتکاروں کے گلے شکوے بھی دور ہو جائیں گے۔

پاکستان میں اس وقت دنیا کی مہنگی ترین کیمیائی کھاد ہے، حیرت انگیز حد تک مہنگی کیڑے مار ادویات ہیں، بیج بھی مہنگائی کی حدوں کو چھو کر آگے بڑھ گئے ہیں جب کہ بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں کی گرانی سے ہم سب اچھی طرح آگاہ ہیں۔

یہ وہ بنیادی اشیاء ہیں جن کی مدد سے کھیت آباد ہوتے ہیں اور زرعی پیداوار حاصل کی جاتی ہے لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ کسی حکومت یا حکمران نے اس پر قابل ذکر توجہ نہیں دی، شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ ہمارے زرعی ملک میں کاشتکار یا زمیندار کو زراعت سے وابستہ وزارت نہیں دی جاتی یا کاشتکاروں/ زمینداروں کے نمائندوں کو زراعت سے متعلق بنائی جانے والی پالیسیوں کے عمل میں شامل نہیں کیا جاتا ۔

صوبہ پنجاب میں نہروں کا جال بھی ہے لیکن اس کے باوجود ہم اپنی مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں کر پا رہے جب کہ ہمارے ہمسائیہ ملک میں مشرقی پنجاب اور ہریانہ میں کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولتیں مل رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کی پیداوار بھی ہم سے کئی گنا زیادہ ہے اور جنس کی قیمت بھی مناسب ہے۔ ہمارے ہاں جب کسی زرعی جنس کی قلت ہوتی ہے تو سب سے پہلے ہمسائیہ ملک کی طرف ہی نظر اٹھتی ہے جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔

بات زرعی ایمرجنسی اور زرعی اجناس کی قلت اور گرانی سے شروع کی تھی جس کے متعلق گاؤں کے چوپالوں اور بیٹھکوں میں گفتگو ہوتی ہے ۔ ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں نے زرعی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔ ڈیزل سے ٹریکٹر چلتا ہے ، زرعی مشینری اور کھیت سے منڈی تک باربرداری بھی ڈیزل کی مرہون منت ہے۔

ڈیزل اوربجلی سے ٹیوب ویل بھی چلتے ہیں۔ آج کے جدید دور میں کاشتکاروں کوہر طرح کی زرعی مشینری سبسڈی اور بلاسود قرضوں کے ذریعے فراہم کرنی چاہیے زرعی مشینری بنانے والی کمپنیوں کے ریٹ پر حکومت کو خصوصی نذر رکھنے کی ضرورت ہے اور اگر کسانوں کو زرعی مشینری کی سہولت دستیاب بھی ہے لیکن ان آلات کو چلانے کے لیے مہنگا تیل استعمال ہوتا ہے جو پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافے کر دیتا ہے۔

گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں کسانوں نے ایک احتجاج کیا جس میں ان کے باقی مطالبات کے علاؤہ دو اہم مطالبات سامنے آئے ہیں جن میں بجلی کے فکس فی یونٹ نرخ اور کیمیائی کھادوں کی قیمتو ں میں کمی شامل ہے۔
مہنگائی اور معیشت کے ان حالات میں ضرورت اس بات کی محسوس کی جارہی کہ حکومت ملک بھر میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کرے، کسانوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے ،کھادوں کے نرخوں کو کنٹرول اور کسانوں کو ڈیزل،بجلی،کھاد،ادویات، کی فراہمی کے لیے کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے جس سے سستا ڈیزل اور دیگر متعلقہ چیزیں صرف کسانوں کو ہی دستیاب ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں