تحریر: رانا کوثر علی
موسمیاتی تبدیلی آج کے دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، غیر متوقع بارشیں، طوفان، خشک سالی اور گلیشیئرز کا پگھلنا وہ علامات ہیں جو ہمیں خبردار کر رہی ہیں کہ ہماری زمین خطرے میں ہے۔ اس بحران کا سامنا کرنے کے لیے اگر کوئی سادہ، مؤثر اور قدرتی حل موجود ہے تو وہ ہے: درخت۔
درخت اور ماحولیاتی توازن
درخت زمین کا پھیپھڑا کہلاتے ہیں کیونکہ وہ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف انسانوں بلکہ تمام جانداروں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں۔ ایک مکمل جوان درخت سالانہ تقریباً 21 کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے، جو ماحول کی صفائی میں مدد دیتا ہے۔
درخت اور عالمی حدت (Global Warming)
درخت زمین کو ٹھنڈا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی چھاؤں زمین کا درجہ حرارت کم کرتی ہے اور ان کے پتے پانی کے بخارات خارج کر کے فضا کو نمی بخشتے ہیں۔ یہی بخارات ماحول میں ٹھنڈک لاتے ہیں اور شدید گرمیوں میں قدرتی “ایئر کنڈیشنر” کا کردار ادا کرتے ہیں۔
بارشوں کے نظام میں درختوں کا کردار
درخت بارش کے قدرتی چکر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی سے زمین پر نمی برقرار رہتی ہے، جو بخارات بن کر بادلوں کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔ جنگلات کے خاتمے سے بارشوں میں کمی اور خشک سالی جیسی آفات بڑھ رہی ہیں، خاص طور پر پاکستان جیسے زرعی ملک میں جہاں زراعت کا دارومدار بارشوں پر ہے۔
زمین کا کٹاؤ اور سیلاب
درختوں کی جڑیں زمین کو جکڑ کر رکھتی ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو یہ جڑیں پانی کو جذب کرتی ہیں اور زمین کے کٹاؤ کو روکتی ہیں۔ درختوں کی کٹائی سے جب زمین ننگی ہو جاتی ہے تو پانی آسانی سے مٹی بہا لے جاتا ہے جس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ سیلابوں میں جنگلات کی کمی کا بھی اہم کردار رہا ہے۔
شہری علاقوں میں درختوں کی اہمیت
شہری علاقوں میں درخت نہ صرف آلودگی کم کرتے ہیں بلکہ شور کو بھی جذب کرتے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے لگے درخت ٹریفک سے نکلنے والی زہریلی گیسوں کو جذب کر کے ماحول کو بہتر بناتے ہیں۔ درختوں کی موجودگی سے شہری علاقوں کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے، جس سے توانائی کی کھپت کم ہوتی ہے کیونکہ ائر کنڈیشنرز کا استعمال کم ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں درختوں کی صورتحال
پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ تقریباً 5 فیصد سے بھی کم ہے جو عالمی معیار (25-30 فیصد) کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ حکومتِ پاکستان نے “بلین ٹری سونامی” جیسے اقدامات سے مثبت پیش رفت کی ہے، لیکن اس مسئلے کا حل صرف حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ عوامی سطح پر درخت لگانے، ان کی حفاظت کرنے، اور ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
ہر فرد کم از کم ایک درخت ضرور لگائے اور اس کی حفاظت کرے۔
اسکول، کالج، یونیورسٹیز میں شجر کاری مہمات کو فروغ دیا جائے۔
درختوں کی کٹائی کو قانونی طور پر سخت سزا دی جائے۔
مقامی درختوں کو ترجیح دی جائے جو مقامی ماحول سے مطابقت رکھتے ہوں۔
ماحولیاتی تعلیم کو نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل اس کا شعور رکھے۔
نتیجہ
درخت صرف سبز منظر نہیں بلکہ ہماری بقا کی ضمانت ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسئلے کا سامنا کرنے کے لیے درختوں کا تحفظ اور افزائش ایک قومی و عالمی فریضہ ہے۔ اگر ہم آج اقدامات نہ کریں تو کل کی زمین صرف یادوں میں باقی رہے گی۔







