آیازخان اٹک
ہمارا اٹک یقیناً آٹھ،نو اور دس محرم الحرام کو کافی حساس ہوتا ہے اور اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے سکیورٹی ادارے اپنی پوری قوت کے ساتھ ہر سال یہاں پر امن و امان کی فضاء قائم کرنے کے لیے کامیابی کا سہرا اللہ کی فضل وکرم سے اپنے سر سجا لیتے ہیں اس بار سوال ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ھسپتال اٹک کا ھے ۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک میں اس وقت تعمیراتی کام جاری ہے ۔ 2018 انتخابات سے قبل اس ہسپتال کے اسی بلڈنگ میں منٹینینس کے نام پر قومی پیسہ جس کا تخمینہ 3 کروڑ روپے تھا لگایا گیا ۔اور اب پھر خاموشی کے ساتھ اس ہسپتال کی اسی بلڈنگ میں کروڑوں روپے کا تعمیراتی کام جاری ہے خیر یہ تو الگ موضوع ہے ھم نے بات محرم الحرام کے حوالے سے ہی کرنی ہے اب سے کچھ دیر قبل ہسپتال کا وزٹ کیا تو دیکھا کہ ٹی بی اور کرونا ٹیسٹ کی وہ پرانی چھوٹے چھوٹے وارڈز میں ہسپتال کا عملہ عوام کو ایمرجنسی کی بنیادی سہولیات فراھم کر رہا ھے ۔ گزشتہ روز کمشنر راولپنڈی ڈویژن لیاقت علی چٹھہ ، آر پی او راولپنڈی نے اٹک کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کی۔ اور انہیں محرم الحرام اور امن و امان کے حوالے سے بریفینگ دی گئی۔ جبکہ انتظامیہ میں کس آفیسر کی یہ خواہش ہوتی ہے یہ خواہش ہے کہ وہ ان افسران کی آمد کی اطلاع مقامی میڈیا کے سنجیدہ نمائندہ گان سے دور رکھتے ہیں کیونکہ مسائل کی نشانی دہی مقامی میڈیا نمائندگان ہی بتا سکتے ہیں اور اگر مقامی نمائندہ گان کو دور رکھا جارہا ہو۔تو میرے خیال میں ایسا کرنا غلط ہی نہیں بلکہ نامناسب بھی ہوگا۔اور ایسے میں ایسے مسائل پر خاموشی یا اصل مسلئے کی طرف توجہ نہ دینا بعد ازاں بڑے بڑے مسائل ہی پیدا کرتے ہیں ۔اس وقت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے دونوں ایمرجنسی وارڈ( مرد وخواتین) میں سات سات بیڈ لگے ہوئے ہیں۔ اللہ نہ کرے کہ کوئی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہو۔ اگر ایمرجنسی ہوئ تو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک کا کردار کیا ہوگا۔؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔وہی ہسپتال کی پرانی روایات کہ “انہیں پنڈی لے جائیں”جیسے کہ ماضی میں ہوا ہے ایک عاجزانہ مشورہ یہی ہے کہ 5 محرم الحرام تا گیارہ محرم الحرام ہسپتال میں تعمیراتی کام بند کیا جائے اور کم سے کم 40 بیڈ پر مشتمل اس زیر تعمیر بلڈنگ میں فوری ایمرجنسی وارڈ بنایا جائے تاکہ اللہ نہ کرے باوقت ضرورت کسی بھی قسم کی کوئی دشواری پیش نہ ہو۔اس کے ساتھ ساتھ ادویات کا بھی مناسب انتظام ہو۔اور خون کا عطیہ دینے والے افراد کو بھی ایکٹو کریں۔اور ان کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات بھی کرائ جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ اور ان کا اعتماد بحال ہو اور یہ صرف اس سال نہیں بلکہ ہر سال بلڈ ڈونرز کو انتظامیہ اپنی چھتری تلے جمع رکھیں۔تا کہ باوقت ضرورت کسی بھی چیز کا فقدان نہ ہو۔







