جب ڈکٹیٹرز آتے ہیں تو سوموٹو نوٹس سو رہا ہوتا ہے،راجہ پرویز اشرف

اسلام آباد(روزنامہ قوم انٹرنیشنل)سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جب ڈکٹیٹرز آتے ہیں تو سوموٹو نوٹس سو رہا ہوتا ہے۔ اسپیکر قومی راجہ پرویز اشرف نے اپنے بیان میں سوموٹو سے متعلق تبصرہ کیا ہے،انہوں نے کہا ہے کہ جب آمر آتے ہیں تو از خود نوٹس سو رہا ہوتا ہے،ڈکٹیٹرز کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی گئی۔پارلیمان کو ڈکٹیٹ نہیں کیا جا سکتا اور پارلیمان کی حیثیت کو تسلیم کرنا پڑے گا،پنجاب کے انتخابات کا کہتے ہیں اور خیبر پختو نخوا کے انتخابات کا نام نہیں لیتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے دو ٹوک موقف پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سارے مل کر بھی چاہیں تو بھی 14 مئی کو الیکشن نہیں ہو سکتے،سب سے گزارش ہے کہ توہین شوہین کے معاملات سے باہر نکلیں۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہر شخص اپنی انا کو پاکستان کی عزت سے کم رکھے،کہیں پاکستان کسی بڑے نقصان سے دوچار نہ ہو جائے۔ آئین بڑا کلئیر ہے کہ اختیارات صرف پارلیمان کے پاس ہیں،پارلیمان کے ممبران کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے چیف جسٹس کو خط لکھا۔ علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال افسوسناک ہے،کسی بھی ملک میں جب ایسی صورتحال ہو تو کوئی تعمیری کام نہیں ہوسکتا۔میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے جس پارلیمان میں موجود عوام کے منتخب نمائندگان کے احساسات کی ترجمانی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں پارلیمنٹ سپریم ہے اور تمام اداروں کی ماں ہے،چیف جسٹس سمیت تمام فاضل ججز کو وہ خط بھجوایا،خط کا مقصد ملک کو ہیجانی کیفیت سے باہر نکالنا تھا۔ خط میں چیف جسٹس کو لکھا کہ سپریم کورٹ نے اپنی حد سے تجاوز کیا،مالی معاملات کی اجازت صرف پارلیمنٹ دے سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں