ملزمان سے زندگی کے خطرات لاحق ہیں،بیوہ عمر خطاب شیرانی
عدالتی حکم کے باوجود پولیس ملزمان کا ساتھ دے رہی ہے، پریس کانفرنس
اسلام آباد: سابق صدرعوامی نیشنل پارٹی ڈیرہ اسماعیل خان عمر خطاب شیرانی مرحوم کی بیوہ انیتا بی بی نے کہا ہے کہ انکے بچوں کوبازیاب کرواکر انکے حوالے کیا جائے، عدالتی حکم کے باوجود انکی سوتن نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے جبکہ پولیس بھی ملزمان کا ساتھ دے رہی ہے،ملزمان مجھ پر کئی بار قاتلانہ حملہ کر چکے ہیں ، جس سے انکی اور انکی بچوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں،نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کے دوران الزام لگاتے ہوئے انیتا بی بی کا مزید کہناتھا کہ انکے شوہرعمر حیات شیرانی کو انکے سگے بھائی اور بھتیجے نے جائیداد کی خاطر قتل کیا اور اس قتل کو سیاسی رنگ دینے کی خاطر اسکا الزام وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور پر لگا دیا،جبکہ انہیں بھی اس قتل میں ملوث قرار دیکر جیل بھیجوا دیا جبکہ انکے گیارہ سالہ بیٹی اور سات سالہ بیٹے کوبھی اپنے پاس رکھا ہوا ہے ، جیل سے بری ہو کر آنے کے بعد انہوں نے بچوں کی حوالگی کا کیس عدالت میں دائر کیا جس پر عدالت نے انکے حق میں فیصلہ دیا اور پولیس کو بچے بازیاب کروانے کا حکم دیا تاہم پولیس بچوں کو بازیاب کرانے کے بجائے ملزمان کے ساتھ مل گئی اور الٹا ہمیں دھمکانا شروع کر دیا، انہوں نے مزید کہا کہ انکے بچوں پر انکا حق ہےانہیں سوتیلی ماں اپنے پاس کیسے رکھ سکتی ہے،اپنے بچوں کیلئے دربدر پھر رہی ہوں مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے،جتنی بار ڈی آئی خان گئی ہوں ملزمان نے مجھ پر قاتلانہ حملے کئے تاہم خوش قسمتی سےان حملوں میں محفوظ رہی،انیتا بی بی نے وزیر اعظم، چیف جسٹس آف پاکستان، آرمی چیف، اور وفاقی وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ وہ انکو بچوں کو بازیاب کروا کر انکے حوالے کریں، انہیں اپنے شوہر کی جائیداد نہیں چاہئے انہیں صرف انکے بچے دیئے جائیں، انہیں اور انکے بچوں کی زندگی کو ملزمان سےشدید خطرات لاحق ہیںلہذاٰ تحفظ فراہم کیا جائے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں یا انکے بچوں کو کچھ بھی ہوا تو اس کے ذمہ دار انکے دیور اکبر کمال، احمد کمال اور انکا سوتیلا بیٹا بلال ہونگے۔







